اردوورلڈ کینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں علیحدگی کے بارے میں عوامی رائے شماری کا معاملہ ایک بار پھر شدید بحث کا باعث بن گیا ہے۔ صوبے کی حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت آئندہ خزاں میں ہونے والے ریفرنڈم میں علیحدگی کا سوال شامل کر سکتی ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنما نے منگل کے روز کہا کہ اس وقت علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کا کوئی قانونی راستہ موجود نہیں، جب تک وزیرِ اعلیٰ خود اس عمل کو آگے نہ بڑھائیں۔ ان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے صوبے بھر میں خطاب کے لیے نشری وقت بھی حاصل کیا ہے۔
انہوں نے ایک خصوصی کمیٹی کا حوالہ دیا جس میں حکمران جماعت کے ارکان کی اکثریت ہے اور جو ایک عوامی درخواست کے مستقبل پر غور کرے گی۔ یہ اجلاس متوقع صدارتی خطاب سے ایک روز قبل ہوگا۔
حزبِ اختلاف کا مؤقف ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے سیاسی دباؤ کے تحت علیحدگی پسند عناصر کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر علیحدگی کا ریفرنڈم ہوا تو اس سے معیشت کو نقصان اور ملک میں تقسیم میں اضافہ ہوگا۔
گزشتہ ہفتے ایک عدالت نے علیحدگی سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ مقامی قبائل سے مشاورت کرے۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے اپیل کا عندیہ دیا ہے۔
مقامی قبائل کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام میں ان کی مشاورت ضروری ہے اور اس کے بغیر فیصلہ آئینی و معاہداتی حقوق کی خلاف ورزی ہوگا۔
ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے تین لاکھ سے زائد دستخط حاصل ہوئے ہیں جو مطلوبہ تعداد سے زیادہ ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اگر مطلوبہ دستخط درست ثابت ہوئے تو سوال کو خزاں کے ریفرنڈم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
سابق نائب وزیرِ اعلیٰ نے وفاق کے حق میں بڑی مہم چلائی تھی جس میں لاکھوں دستخط جمع کیے گئے تھے۔
رواں سال کے آغاز میں وزیرِ اعلیٰ نے اکتوبر میں عوامی رائے شماری کا اعلان کیا تھا جس میں اس وقت صرف امیگریشن پالیسی اور آئینی اصلاحات سے متعلق سوالات شامل ہیں۔