اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا اور وفاقی حکومت نے مغربی ساحل تک نئی تیل پائپ لائن کی تعمیر کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے، جبکہ صوبائی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اس منصوبے کے حق میں معاشی دلائل پیش کر رہی ہیں اور ساتھ ہی مخالف آوازوں کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
حالیہ توانائی معاہدے کے بعد کاروباری حلقوں اور ماحولیاتی تنظیموں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف حکومت معاشی ترقی اور توانائی کے شعبے کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سبز توانائی کے اہداف کو نسبتاً کم اہمیت دیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
البرٹا حکومت یکم جولائی تک منصوبے کی تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت یکم اکتوبر تک اسے قومی اہمیت کے منصوبے کے طور پر ترجیح دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا ہے کہ سن دو ہزار ستائیس میں تیل کی ترسیل شروع نہیں ہوگی بلکہ اُس وقت تک صرف تعمیراتی کام کے آغاز کی امید رکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کو ماحولیاتی جائزوں، راستوں کی منظوری اور انجینیئرنگ مراحل سے گزرنے میں مزید کئی برس لگ سکتے ہیں۔
کاروباری طبقہ اس پیش رفت کو صوبے کی معیشت کے لیے مثبت قرار دے رہا ہے۔ لیتھ برج جامعہ سے وابستہ ماہرِ معاشیات نذیر میمون کے مطابق پائپ لائن جیسے بڑے منصوبے تعمیرات، روزگار اور حکومتی آمدنی میں اضافہ کریں گے، جس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچیں گے۔
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیم انوائرنمنٹل ڈیفنس نے صنعتی کاربن اخراج کی نئی قیمت پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت البرٹا میں سن دو ہزار چالیس تک کاربن اخراج کی قیمت ایک سو تیس ڈالر فی ٹن مقرر کی گئی ہے، جو قومی سطح کے مجوزہ نرخ سے کم ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف البرٹا بلکہ پورے ملک کے ماحولیاتی اہداف کو کمزور کرے گا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق وفاقی حکومت اب معیشت، مہنگائی اور روزگار پر زیادہ توجہ دے رہی ہے، جبکہ سبز توانائی کے اہداف وقتی طور پر پس منظر میں جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ لوری ولیمز کے مطابق البرٹا میں علیحدگی پسند جذبات رکھنے والے بعض حلقے اس معاہدے کو محتاط انداز میں مثبت سمجھ سکتے ہیں، لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی شکوک رکھتی ہے کہ آیا یہ منصوبہ واقعی مکمل ہو سکے گا یا نہیں۔
ادھر وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اپنے ہفتہ وار ریڈیو پروگرام میں اعلان کیا کہ صوبائی حکومت اُس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی جس میں مقامی اقوامِ اولیٰ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے البرٹا کی آزادی سے متعلق درخواست کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔