اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)منشیات کیس میں گرفتار مبینہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے متعلق تحقیقات میں نئے اور تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق اس نیٹ ورک کے گاہکوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر سولہ سے چوبیس سال کی عمر کے متعدد طلبہ و طالبات اس نیٹ ورک سے منسلک پائے گئے ہیں، جو مہنگی اقسام کی منشیات استعمال کرتے تھے۔ ان میں بعض افراد کے بارے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وہ ملک کے معروف اور مہنگے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کی ترسیل کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ بعض مواقع پر ڈیلیوری کے لیے رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ طالبات تک رسائی کے لیے خواتین کے ایک علیحدہ نیٹ ورک کے ذریعے سپلائی کی جاتی تھی۔
حکام کے مطابق اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کن تعلیمی اداروں کے طلبہ اس نیٹ ورک سے منسلک رہے اور ان کے درمیان رابطوں کا طریقہ کار کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ سے حاصل ہونے والے نمبرز اور ڈیٹا کا بھی باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔
تفتیشی حکام کے مطابق اس کیس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ سے متعلق بھی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے۔