اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایئر فرانس کی ایک پرواز جو پیرس سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جا رہی تھی، بدھ کی دوپہر اس وقت اچانک مونٹریال کی طرف موڑ دی گئی جب حکام کو خدشہ ہوا کہ جہاز میں موجود ایک مسافر ممکنہ طور پر ایبولا وائرس سے متاثرہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے یا اس کے رابطے میں رہا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق مذکورہ مسافر کو غلطی سے پیرس میں پرواز میں سوار ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی، حالانکہ وہ حال ہی میں مشرقی افریقہ کے اس خطے میں موجود تھا جہاں ایبولا کی ایک نایاب قسم پھیل رہی ہے۔ حکام کے مطابق ایبولا کے خطرے کے باعث ایسے مسافروں پر مخصوص پابندیاں عائد ہیں، اور اس مسافر کو جہاز میں سوار نہیں ہونا چاہیے تھا۔
حکام نے بتایا کہ اسی وجہ سے پرواز کو ڈیٹرائٹ میں لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے مونٹریال موڑ دیا گیا۔ بعد میں پرواز شام کے وقت مونٹریال پہنچی جہاں متعلقہ مسافر کو جہاز سے اتار کر سکیورٹی عملے کے حوالے کیا گیا، جبکہ باقی مسافروں کے لیے پرواز کو ڈیٹرائٹ جانے کی اجازت دے دی گئی۔
سرکاری اداروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا مذکورہ مسافر میں ایبولا کی کوئی علامات موجود تھیں یا نہیں۔ ایئر فلیٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق پرواز بعد میں ڈیٹرائٹ پہنچی جہاں یہ تقریباً رات آٹھ بجے لینڈ ہوئی۔
اسی دوران امریکی اداروں نے حال ہی میں کچھ ممالک کے مسافروں پر سفری پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جن میں کانگو، جنوبی سوڈان اور یوگنڈا شامل ہیں، جبکہ ان ممالک سے آنے والے افراد کے لیے ایئرپورٹس پر خصوصی اسکریننگ کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔
ایئر فرانس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک کانگولیز مسافر کو امریکی داخلے کی نئی شرائط کے تحت داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور وہ قواعد کی پابندی کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس وبا کو بین الاقوامی سطح پر تشویش ناک قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے پھیلاؤ اور رفتار میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کانگو کے شمالی علاقوں میں اب تک درجنوں کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں اموات اور سیکڑوں مشتبہ کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کچھ عالمی ماہرین کے مطابق اصل کیسز کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔