اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی ایک خصوصی کمیٹی جو تھامس لوکاشک کی پیش کردہ “ہمیشہ کینیڈا کے ساتھ” پٹیشن کا جائزہ لے رہی تھی، بدھ کے روز اس وقت شدید تنازع اور افراتفری کا شکار ہو گئی جب ارکان کو معلوم ہوا کہ حکمران یو سی پی گروپ نے ایک ایسا میڈیا بیان جاری کر دیا ہے جس میں ووٹنگ کے نتائج کا ذکر تھا، حالانکہ ووٹ ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔
یہ کمیٹی، جس میں اکثریت یو سی پی اراکین کی ہے اور جس میں این ڈی پی کے ارکان بھی شامل ہیں، اس بات پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئی تھی کہ اس پٹیشن کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے۔ اجلاس کے دوران یو سی پی ارکان نے ایک تجویز پیش کی جس میں البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ سے مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کو خزاں میں ہونے والے صوبائی ریفرنڈم میں شامل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں علیحدگی سے متعلق ریفرنڈم کا تنازع پھر شدت اختیار کر گیا
تھامس لوکاشک کافی عرصے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی پٹیشن کو ریفرنڈم میں ڈالنے کے بجائے براہِ راست قانون ساز اسمبلی میں ارکانِ پارلیمان کے ذریعے ووٹ کے لیے پیش کیا جائے۔
صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب این ڈی پی کی نائب قائد اور کمیٹی رکن راکھی پنجولی نے ایک عوامی بیان کی نشاندہی کی جس میں کمیٹی کے چیئرمین اور یو سی پی رکن برانڈن لُنٹی کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سفارش منظور ہو چکی ہے، حالانکہ اس وقت تک کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی تھی۔
راکھی پنجولی نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ جب کمیٹی میں بحث جاری ہے تو پہلے ہی ریفرنڈم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس پر این ڈی پی رکن کرسٹینا گرے نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوری عمل کی توہین ہے۔
بعد میں یو سی پی گروپ نے وضاحت جاری کی کہ یہ بیان غلطی سے جاری ہو گیا تھا۔ یو سی پی رکن جیسن نکسن نے کہا کہ عملے نے غلطی پر معذرت کر لی ہے اور اسے ایک افسوسناک انتظامی خطا قرار دیا۔
شدید بحث کے باوجود اجلاس کے اختتام پر ریفرنڈم سے متعلق کوئی حتمی ووٹ نہیں ہو سکا۔ اجلاس کو بڑھانے کی کوشش بھی ناکام رہی کیونکہ اس کے لیے متفقہ منظوری ضروری تھی۔
اب یہ واضح نہیں کہ اس پٹیشن کا مستقبل کیا ہوگا، تاہم کمیٹی کا اگلا اجلاس جمعرات کو ہونا طے ہے۔ تھامس لوکاشک کی پٹیشن کو چار لاکھ سے زائد تصدیق شدہ دستخط مل چکے ہیں، جس میں عوام سے پوچھا گیا ہے کہ کیا البرٹا کو کینیڈا کا حصہ رہنا چاہیے یا نہیں۔
دوسری جانب علیحدگی کی ایک اور پٹیشن بھی سامنے آئی تھی، لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ اس میں مقامی آبادی سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
اب سب کی نظریں وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے ممکنہ اعلان پر ہیں، کیونکہ یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر صوبے سے خطاب کر سکتی ہیں اور ریفرنڈم کے بارے میں بڑا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔