اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں اس سال خزاں کے دوران ایک اہم عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں شہریوں سے پوچھا جائے گا کہ آیا صوبہ بدستور کینیڈا کا حصہ رہے یا پھر علیحدگی کے امکان پر باقاعدہ قانونی عمل شروع کیا جائے۔ صوبے کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے جمعرات کے روز پورے صوبے میں نشر ہونے والے خصوصی خطاب میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔
پریمیئر کے مطابق ان کی حکومت انیس اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں ایک نیا سوال شامل کرے گی۔ اس سوال میں عوام سے رائے طلب کی جائے گی کہ کیا البرٹا کینیڈا کے اندر ایک صوبے کی حیثیت برقرار رکھے یا صوبائی حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق ایسے قانونی مراحل شروع کرے جن کے نتیجے میں مستقبل میں علیحدگی کے بارے میں باقاعدہ اور لازمی عوامی ووٹنگ کرائی جا سکے۔
ڈینیئل اسمتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ البرٹا کے عوام کی اصل رائے معلوم کی جائے تاکہ اس معاملے پر پائی جانے والی سیاسی اور عوامی بے یقینی ختم ہو سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود البرٹا کے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیں گی۔
یہ پیش رفت اس عدالتی فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں “اسٹے فری البرٹا” نامی علیحدگی کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ درخواست تیار کرتے وقت مقامی قبائل سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی، اس لیے اس عمل کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ پریمیئر نے عدالت کے اس فیصلے کو جمہوری حقوق میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تشریح درست انداز میں نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے باعث صوبائی انتخابی ادارہ درخواست پر جمع ہونے والے دستخطوں کی توثیق یا کسی لازمی ریفرنڈم کے انعقاد کی کارروائی مکمل نہیں کر سکتا، کیونکہ اپیلوں کا عمل ابھی جاری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے نیا سوال ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
ادھر حکمران جماعت کے ایک خصوصی اجلاس میں سابق نائب پریمیئر تھامس لوکاشک کی “فاریور کینیڈین” درخواست کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے ارکان نے باضابطہ طور پر پریمیئر سے مطالبہ کیا کہ علیحدگی سے متعلق سوال کو خزاں کے ریفرنڈم میں شامل کیا جائے۔
یاد رہے کہ مذکورہ درخواست کو دسمبر میں چار لاکھ سے زائد تصدیق شدہ دستخط حاصل ہوئے تھے۔ اس درخواست میں عوام سے پوچھا گیا تھا کہ آیا البرٹا کو کینیڈا کے اندر رہنا چاہیے یا نہیں۔ اس تمام پیش رفت نے البرٹا کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے مہینوں میں اس معاملے پر شدید سیاسی سرگرمی متوقع ہے۔