اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ترکی کی عدالت نے ملک کی اہم اپوزیشن جماعت جمہوریہ عوامی پارٹی (CHP) کی قیادت کے حالیہ انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے بعد اپوزیشن لیڈر اوزگرا اوزل عہدے سے ہٹا دیے گئے ہیں۔
عدالت نے سابق چیئرمین کمال قلیچدار اوغلو کو دوبارہ پارٹی کی قیادت سونپنے کا حکم دیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اوزگرا اوزل کی قیادت میں ہونے والے انتخاب میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور ان پر ووٹ خریدنے کے الزامات بھی تھے۔ یہ معاملہ پارٹی کی داخلی سیاست میں کشیدگی کے بعد عدلیہ تک پہنچا، جس نے پارٹی کے موجودہ انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سابق چیئرمین کی بحالی کا حکم دیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مبصرین نے عدالتی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور اسے پارٹی کی خودمختاری میں مداخلت کے طور پر دیکھا ہے۔ ان تنظیموں نے استنبول کی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائے تاکہ سیاسی جماعتوں کے اندرونی معاملات پر غیر مناسب دباؤ نہ پڑے۔
CHP ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے اور اس کے انتخابات ملکی سیاست میں اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی کے اندرونی کشیدگی اور ترکی کے سیاسی منظرنامے پر اس کے اثرات متوقع ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اپوزیشن میں عبوری عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے اور حکومت مخالف سیاست پر بھی اثر پڑے گا۔