اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ بھارت نے کبھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ مذاکرات میں ثالث یا سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی بنیادی تشویش پاکستان کی سرزمین سے سرگرم مسلح گروہوں سے متعلق ہے جو بھارت کو نشانہ بناتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بات بھارت کے دورے کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار پر کوئی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ بھارت کی توجہ زیادہ تر اپنی سلامتی کے مسائل پر مرکوز رہتی ہے اور وہ اس معاملے کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایران کے معاملے میں پاکستان کے کردار کی بات ہے، یہ مسئلہ بھارتی حکام کے ساتھ کسی سنجیدہ اعتراض یا تنازع کی صورت میں سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق انہیں نہیں لگتا کہ بھارت اس کردار پر کوئی باضابطہ مخالفت کرے گا، کیونکہ دونوں معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں پر بھی بات کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور جوہری معاملات پر ایک سنجیدہ، محدود مدت کے اندر قابل عمل معاہدے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ایک مضبوط تجویز موجود ہے جس پر پیش رفت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہوں گی اور خطے کے خلیجی ممالک بھی اس عمل کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بھی اس تجویز کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے اور اکثر ممالک اس بات سے متفق ہیں کہ یہ قدم عالمی امن کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی معاہدے کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے اور وہ کسی بھی کمزور یا غیر مؤثر معاہدے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ سفارت کاری کو مکمل موقع دیا جائے تاکہ کوئی ایسا حل نکل سکے جو دیرپا اور مؤثر ہو۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یہ بات واضح رہے گی کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہے گا۔
ان بیانات کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایران، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔