اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی سینٹرل کمانڈ، جسے سینٹکام کہا جاتا ہے، نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جاری جنگ بندی کے باوجود جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں اس لیے کی گئیں تاکہ خطے میں موجود امریکی اہلکاروں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سینٹکام کے ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق امریکی افواج نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اطلاعات کے مطابق ایرانی فورسز کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں اور میزائل لانچنگ کے ممکنہ مراکز موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات مکمل طور پر دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد صرف امریکی اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کا اعلان موجود ہے، تاہم امریکی افواج صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق دفاعی تیاری اور احتیاطی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز جنوبی ایران کے اہم شہر بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے قریبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکوں کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، پہلے بھی کشیدگی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں تناؤ کو دوبارہ بڑھا سکتی ہیں اور اس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی سیکیورٹی اور توانائی کی ترسیل کے نظام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے اس واقعے پر مکمل اور تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ صورتحال کے مزید واضح ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔