کیوبیک میں ڈیجیٹل طبی نظام پر نظرِثانی، حکومت نے متبادل امکانات بھی کھلے رکھ دیے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک کی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ صحت کے شعبے کے لیے زیرِ آزمائش ڈیجیٹل طبی ریکارڈ نظام کو پورے صوبے میں نافذ کرنے کے بجائے دیگر متبادل ٹیکنالوجیوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

فرانس ایلین دورانسو نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہا کہ حکومت تمام ممکنہ راستوں کا جائزہ لے گی اور ایسی ٹیکنالوجیوں پر بھی غور کیا جائے گا جو کم لاگت میں بہتر نتائج فراہم کرسکیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ ادارۂ سانتے کیوبیک کی سفارشات کے بعد کیا جائے گا۔

اس وقت امریکی کمپنی ایپک کے تیار کردہ ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ نظام کا تقریباً چالیس کروڑ ڈالر مالیت کا آزمائشی منصوبہ دو طبی مراکز میں جاری ہے، جن میں ایک مونٹریال اور دوسرا موریسی علاقے میں واقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ امکان موجود ہے کہ ایپک کا نظام پورے طبی نیٹ ورک میں نافذ نہ کیا جائے بلکہ کچھ اداروں کے لیے مختلف ٹیکنالوجیاں منتخب کی جائیں۔ دورانسو نے سوال اٹھایا کہ آیا یہی نظام پورے کیوبیک کے لیے موزوں ہے یا صرف جامعاتی اسپتالوں تک محدود رہنا چاہیے، جبکہ کم خرچ متبادل بھی مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ آزمائشی منصوبوں کا آغاز اب تک کامیاب رہا ہے اور نتائج سامنے آنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنا ضروری ہے، مگر یہ کام دستیاب مالی وسائل کے اندر رہ کر ہونا چاہیے۔

دورانسو نے یہ بھی بتایا کہ مونٹریال کے جیوئش جنرل اسپتال میں پہلے سے استعمال ہونے والے ایک اور نظام کے بارے میں مثبت آراء موصول ہوئی ہیں۔

دوسری جانب وزارتِ سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل امور کے اعلیٰ معلوماتی افسر اسٹیفان لے بویونیک نے بتایا کہ آزمائشی منصوبوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکومتی اندازوں کے مطابق اگر ایپک کے ڈیجیٹل نظام کو پورے طبی نیٹ ورک میں نافذ کیا گیا تو اس کی مجموعی لاگت ڈیڑھ ارب سے تین ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد تقریباً چار سو مختلف معلوماتی نظاموں کو یکجا کرنا اور موجودہ دس ہزار پانچ سو پرانے نظاموں کی بڑی تعداد کو مرحلہ وار تبدیل کرنا ہے۔

کیوبیک حکومت کے معلوماتی وسائل کے منصوبہ جاتی جائزے میں اس نظام کو روایتی طریقۂ کار سے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کے ذریعے فیکس، کاغذی فارم اور دستی اسکیننگ جیسے پرانے طریقوں کی جگہ ایک مربوط اور باہمی طور پر منسلک ڈیجیٹل نظام لے گا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں