امریکا اور ایران معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں ۔

دونوں ممالک کے درمیان کوئی مناسب اور قابل قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو واشنگٹن کو دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق ایسے نکات پر بات چیت کر رہے ہیں جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مستقبل کے تنازعات سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی ذرائع سے ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا اپنے قومی مفادات اور اتحادیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں یا کوئی مضبوط اور مؤثر معاہدہ سامنے نہیں آتا تو امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ سے مختلف معاملات پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں کے معاملات مذاکرات کے اہم موضوعات رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کا بیان ایک جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش ہے تو دوسری جانب یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کسی جامع معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ٹرمپ کے حالیہ بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران ماضی میں متعدد بار اس بات پر زور دے چکا ہے کہ مذاکرات باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔بین الاقوامی مبصرین کی نظریں اب آئندہ مذاکراتی دور پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہو سکے گا کہ امریکا اور ایران واقعی کسی تاریخی معاہدے کے قریب ہیں یا اختلافات ایک بار پھر دونوں ممالک کو تصادم کی راہ پر لے جائیں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں