اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے تاریخی الشقیف قلعے پر قبضے اور وہاں اپنا قومی پرچم لہرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قلعے اور اس کے گردونواح میں شدید گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے بھی دیکھے گئے۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق الشقیف قلعہ، جسے مغربی دنیا میں بیوفورٹ قلعہ بھی کہا جاتا ہے، جنوبی لبنان کے اہم ترین تاریخی اور ثقافتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بلند پہاڑی مقام پر واقع ہونے کے باعث عسکری اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور وسیع علاقے پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق صلیبی جنگوں کے دوران اس قلعے کو بیوفورٹ کا نام دیا گیا تھا، جس کا مطلب ’’خوبصورت قلعہ‘‘ ہے۔
بعد ازاں یہ قلعہ مختلف ادوار میں کئی مرتبہ ہاتھ بدلتا رہا۔ مشہور مسلم سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے اسے فتح کیا، تاہم کچھ عرصے بعد صلیبی افواج نے دوبارہ قبضہ کر لیا۔ بعد میں مملوک سلطان الظاہر بیبرس کی قیادت میں 1268ء میں اسے دوبارہ مسلمانوں کے زیرِنگیں لایا گیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ قلعے پر کنٹرول حاصل کرنا جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کا اہم مرحلہ ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق یہ مقام اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور اس سے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے کی نگرانی ممکن ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے زہرانی دریا کے جنوب اور دریائے لیطانی کے شمال میں واقع متعدد علاقوں کے مکینوں کو انخلا کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ یہ علاقے اسرائیلی سرحد سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے الشقیف قلعے پر قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت اسرائیل کی عسکری حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔