اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں منظور شدہ پناہ گزینوں کو مستقل رہائش کے حصول کے لیے غیرمعمولی تاخیر کا سامنا ہے، جہاں ہزاروں افراد اپنی درخواستوں پر فیصلے کے منتظر ہیں۔
ان متاثرہ افراد میں ماریا جولیانا پریئتو گراسیا بھی شامل ہیں، جنہوں نے فروری دو ہزار تئیس میں مستقل رہائش کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔
درخواست جمع کراتے وقت کینیڈا کے محکمۂ شہریت و مہاجرت نے انہیں بتایا تھا کہ کارروائی مکمل ہونے میں تقریباً ڈھائی سال لگیں گے، تاہم تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں اب تک کوئی حتمی جواب موصول نہیں ہوا۔
ماریا جولیانا پریئتو گراسیا کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر جو مدت بتائی گئی تھی وہ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، جس سے درخواست گزاروں میں بے چینی اور مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے طویل انتظار کے ذریعے لوگوں کو صوبہ چھوڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہو۔
صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ آج اگر کوئی منظور شدہ پناہ گزین کیوبیک میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دیتا ہے تو اس کی کارروائی مکمل ہونے کا متوقع دورانیہ ایک سو سترہ ماہ، یعنی تقریباً دس برس بنتا ہے۔ اس کے برعکس کینیڈا کے دیگر صوبوں میں یہی عمل اوسطاً پندرہ ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
وفاقی محکمۂ شہریت و مہاجرت کے مطابق اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ کینیڈا اور کیوبیک کے درمیان موجود خصوصی معاہدہ ہے، جس کے تحت صوبائی حکومت ہر سال اپنی مہاجرتی گنجائش خود طے کرتی ہے۔ کیوبیک نے دو ہزار چھبیس کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ہزار پناہ گزینوں اور اسی نوعیت کے دیگر افراد کو قبول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
محکمہ کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کی تعداد دستیاب نشستوں سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث زیر التوا درخواستوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کارروائی کا وقت بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ تاخیر ان افراد کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے جو اپنے اہلِ خانہ سے ملنے، مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے یا زندگی کے اہم فیصلے لینے کے منتظر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب کیوبیک کی وزارتِ مہاجرت نے اس مسئلے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل رہائش کی درخواستوں پر کارروائی اور اس کے دورانیے کا تعین وفاقی حکام کی ذمہ داری ہے۔
تاہم مہاجرتی امور کے وکیل ماریو بیلیسیمو اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاخیر کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں سطحوں کی حکومتوں کو مل بیٹھ کر اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنا چاہیے تاکہ ان افراد کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے جو پہلے ہی ظلم، جبر اور المناک حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پناہ گزین معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقات میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی درخواستوں کو دیگر مہاجرتی پروگراموں کی طرح ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں یقین اور استحکام حاصل کر سکیں۔