اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) عالمی شہرت یافتہ امریکی ریسلر ہلک ہوگن کی موت سے متعلق جاری تحقیقات مکمل ۔
پولیس حکام کے مطابق ہلک ہوگن، جن کا اصل نام ٹیری جینی بولیا تھا، جولائی 2025 میں 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی اچانک وفات کے بعد مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں، تاہم اب تحقیقاتی رپورٹ نے تمام شکوک و شبہات دور کر دیے ہیں۔امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر کلیئر واٹر کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلک ہوگن کی موت ایک طبی ایمرجنسی کے باعث ہوئی اور اس واقعے میں کسی قسم کے جرم، سازش یا مشتبہ سرگرمی کے شواہد نہیں ملے۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران تمام دستیاب شواہد، طبی ریکارڈ اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی معلومات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم کہیں بھی تشدد، زہریلے مادوں کے استعمال یا بیرونی مداخلت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جولائی 2025 میں ہلک ہوگن کو ان کی رہائش گاہ پر اچانک طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور ان کی جان بچانے کے لیے ہنگامی طبی امداد فراہم کی گئی۔ طبی عملے نے انہیں سی پی آر بھی دیا، تاہم ان کی حالت تشویشناک رہی۔
بعد ازاں انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور صبح 11 بج کر 17 منٹ پر ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی۔حکام کے مطابق جب امدادی ٹیمیں ہلک ہوگن کے گھر پہنچیں تو ان کی تیسری اہلیہ بھی گھر میں موجود تھیں۔ پولیس نے واضح کیا کہ تحقیقات کے دوران کسی بھی مشتبہ پہلو یا مجرمانہ سرگرمی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کو باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا ہے اور حکام نے ہلک ہوگن کی موت کو قدرتی وجوہات کے نتیجے میں ہونے والی وفات قرار دیا ہے۔
ہلک ہوگن کو پیشہ ورانہ ریسلنگ کی تاریخ کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں اپنی شاندار کارکردگی، منفرد انداز اور غیر معمولی مقبولیت کے باعث عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کی رنگ میں موجودگی نے ریسلنگ کو دنیا بھر میں نئی پہچان دی اور وہ لاکھوں مداحوں کے دلوں پر راج کرتے رہے۔ان کی وفات کی خبر نے دنیا بھر میں موجود مداحوں اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کو افسردہ کر دیا تھا، جبکہ اب پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کی موت کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قدرتی طبی مسئلے کے باعث واقع ہوئی۔