اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایک دوسرے پر تازہ حملوں کے بعد عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
خطے میں جنگ بندی کے ممکنہ خاتمے کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
ادھر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس کاروباری سرگرمیوں کے دوران 1,480 پوائنٹس کی کمی کے بعد 168,998 پوائنٹس پر دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے دباؤ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں گراوٹ دیکھی گئی۔
ایشیا کی دیگر بڑی مارکیٹس بھی شدید دباؤ کا شکار رہیں۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 8 فیصد سے زائد گر گیا، جبکہ جاپان کا نکی (Nikkei) انڈیکس 3 فیصد سے زیادہ کم ہوا۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح یورپی اور دیگر عالمی مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا، جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، ہانگ کانگ اور بھارت کی اسٹاک مارکیٹس شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم نہیں ہوتی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر سیاسی رہنما اور مالیاتی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں تاکہ توانائی اور مالیاتی منڈیوں کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔