ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، خطے میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران نے امریکا کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی جنوبی ایران میں مبینہ امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین، کویت اور اردن سمیت مختلف مقامات پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ اردن میں واقع الازرق فوجی اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں ایف 35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سمیت چار اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسی طرح کویت میں واقع علی السالم فوجی اڈے پر بھی ڈرون حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ممکنہ خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے اور ملک کی فضائی حدود کی نگرانی جاری ہے۔

ایرانی پاسداران کے مطابق حملوں کے دوران جنوبی ایران کے بعض علاقوں میں بھی نقصانات ہوئے، جن میں سیریک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان اور دو پانی کے ٹینکوں کی تباہی شامل ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کا جواب مزید سخت ہوگا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کی جوابی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر یہ حملے کیے گئے جن میں ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی ایران میں فضائی حملوں کے دوران تقریباً بیس اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو مختلف مراحل میں تین لہروں کی صورت میں کیے گئے۔ ایران نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوبی شہروں جیسے جسک اور بندر عباس کے قریب کچھ دیہات متاثر ہوئے ہیں، تاہم مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

مقامی حکام کے مطابق سرک کے علاقے میں پانی کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جس سے علاقائی سطح پر شہری سہولیات متاثر ہوئی ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی حساس ہو گئی ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید تصادم سے گریز کی اپیل کی ہے، تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے بچائی جا سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں