کینیڈا میں کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر نئی پابندیوں کی تجویز

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت نے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک نیا مسودۂ قانون پیش کیا ہے جس کا مقصد بچوں اور نوعمر افراد کو انٹرنیٹ پر موجود نقصان دہ مواد سے محفوظ بنانا ہے۔

اس مجوزہ قانون کے تحت سماجی ذرائع ابلاغ فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ سولہ برس سے کم عمر افراد کی اپنی خدمات تک رسائی محدود کریں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کم عمر افراد کو آن لائن دنیا میں بڑھتے ہوئے خطرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

مجوزہ قانون کے مطابق بعض ادارے اس پابندی سے استثنا حاصل کر سکیں گے، لیکن اس کے لیے انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ تاہم وہ خدمات جو بالغ افراد کے مواد پر مشتمل ہوں یا جن کا بنیادی مرکز صارفین کی جانب سے شیئر کیا گیا بالغ مواد ہو، انہیں اس قسم کے استثنا کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس قانون میں مصنوعی ذہانت پر مبنی گفتگو کرنے والے نظاموں کے لیے بھی نئی ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں۔ ان اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کے امکانات کم کریں اور ایسے حالات کے لیے خصوصی ہنگامی طریقۂ کار وضع کریں جن کا تعلق خود کو نقصان پہنچانے، خودکشی یا تشدد جیسے معاملات سے ہو۔

حکومت نے ایک نئے نگران ادارے کے قیام کی بھی تجویز دی ہے جسے ’’کینیڈا کا ڈیجیٹل تحفظ کمیشن‘‘ کہا جائے گا۔ سرکاری معلومات کے مطابق یہ ایک آزاد ادارہ ہوگا اور اس کے اراکین کا تقرر حکومتی کابینہ کرے گی۔ اس کمیشن کا بنیادی مقصد آن لائن خدمات کی نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

مجوزہ قانون سات اقسام کے نقصان دہ مواد کا احاطہ کرتا ہے۔ ان میں ایسا مواد شامل ہے جو کسی بچے کو خود کو نقصان پہنچانے پر آمادہ کرے، تشدد کو ہوا دے، نفرت پھیلائے یا کسی شخص کی نجی اور ذاتی نوعیت کی تصاویر یا مواد کو اس کی اجازت کے بغیر عام کرے۔

قانون کے تحت سماجی ذرائع ابلاغ کے اداروں کو دو اقسام کے مواد چوبیس گھنٹوں کے اندر ہٹانا ہوگا۔ پہلی قسم بچوں کے جنسی استحصال یا متاثرین کو دوبارہ ذہنی اذیت پہنچانے والے مواد پر مشتمل ہے، جبکہ دوسری قسم وہ نجی تصاویر ہیں جو متعلقہ فرد کی رضامندی کے بغیر شائع کی گئی ہوں۔

مزید برآں مصنوعی طریقے سے تیار کردہ مواد پر واضح نشانات لگانا بھی لازم ہوگا تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ متعلقہ مواد حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذرائع سے تخلیق کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین زیادہ تر نقصان ہونے کے بعد کارروائی کرتے ہیں، جبکہ یہ نیا قانون نقصان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی اس کی روک تھام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے آن لائن خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کو عوامی تحفظ کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار بنایا جا سکے گا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں