اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) میں سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں تقریباً 3,500 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کرکے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
انکشاف وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بے دخلی کی یہ کارروائیاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات میں نافذ سوشل میڈیا اور سائبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں کی گئیں۔ ان کے مطابق یو اے ای حکام نے مقامی قوانین کے نفاذ کے تحت کارروائی کی اور یہ اقدامات صرف پاکستانی شہریوں کے خلاف مخصوص طور پر نہیں تھے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان متاثرہ پاکستانیوں اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن سفارتی اور قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جن افراد کو یو اے ای سے واپس بھیجا گیا ہے، ان کی جائیدادوں اور مالی معاملات سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھی وزارتِ خارجہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔دوسری جانب بعض بین الاقوامی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ہزاروں پاکستانی شہری، خصوصاً بعض مخصوص کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد، یو اے ای سے واپس بھیجے گئے اور ان میں سے بعض کو ملازمتوں، بینک اکاؤنٹس اور ذاتی سامان تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم پاکستانی حکومت نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی مخصوص ملک، قومیت یا فرقے کو نشانہ بنا کر بے دخلیاں نہیں کی جا رہیں بلکہ یہ اقدامات میزبان ملک کے قوانین کے مطابق کیے جاتے ہیں۔وزارتِ داخلہ اور دفتر خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو مقامی قوانین، خصوصاً سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ضوابط کی مکمل پابندی کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے قوانین کی خلاف ورزی ویزا منسوخی، جرمانے یا ملک بدری کا سبب بن سکتی ہے۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 18 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جو پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا ایک اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔