اردو ورلڈکینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 2015 میں ایک اجنبی خاتون کے قتل کے ہائی پروفائل مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
قتل کی ملزمہ روہنی بسیسر کو واقعے کے تقریباً 10 سال بعد مکمل قانونی رہائی دے دی گئی ہے، جس کے بعد ان پر عائد تمام عدالتی اور قانونی پابندیاں ختم ہو گئی ہیں۔اونٹاریو ریویو بورڈ نے اپنے حالیہ فیصلے میں روہنی بسیسر کو "ایبسولیوٹ ڈسچارج” (مطلق رہائی) دیتے ہوئے قرار دیا کہ وہ اب عوامی سلامتی کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں رہیں اور قانون کے مطابق انہیں مکمل آزادی دی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 11 دسمبر 2015 کو ٹورنٹو کے ایک شاپرز ڈرگ مارٹ اسٹور میں روہنی بسیسر نے 28 سالہ روزمیری جونر پر اچانک چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ اس وقت مقتولہ خریداری میں مصروف تھیں جبکہ دونوں خواتین کے درمیان نہ تو کوئی جان پہچان تھی اور نہ ہی کسی قسم کا ذاتی تنازع موجود تھا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ روزمیری جونر جانبر نہ ہو سکیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔یہ واقعہ ٹورنٹو بھر میں شدید تشویش اور خوف کا باعث بنا تھا کیونکہ حملہ مکمل طور پر بلااشتعال اور ایک اجنبی شخص پر کیا گیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کر لیا تھا اور مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا۔طویل عدالتی کارروائی کے بعد 2018 میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ روہنی بسیسر قتل کے وقت شدید ذہنی بیماری اور نفسیاتی وہم (سائیکوسس) کا شکار تھیں۔ ماہرینِ نفسیات کی رپورٹس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں "نوٹ کرمنلی رسپانسبل” (NCR) یعنی مجرمانہ طور پر ذمہ دار قرار نہ دیے جانے کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد روہنی بسیسر کو علاج کے لیے سینٹر فار ایڈکشن اینڈ مینٹل ہیلتھ (CAMH) منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً پانچ برس تک زیر علاج رہیں۔ اس دوران ماہرینِ نفسیات نے ان کی مسلسل نگرانی کی اور ان کے علاج کا تفصیلی جائزہ لیا۔دستاویزات کے مطابق روہنی بسیسر 2021 سے کمیونٹی میں رہائش پذیر تھیں اور نگرانی کے تحت معمول کی زندگی گزار رہی تھیں۔ وہ سماجی خدمات میں حصہ لے رہی تھیں، رضاکارانہ کام انجام دے رہی تھیں اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھیں۔
اونٹاریو ریویو بورڈ نے اپنے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا کہ روزمیری جونر کا قتل ایک نہایت افسوسناک، چونکا دینے والا اور تکلیف دہ واقعہ تھا جس نے مقتولہ کے اہل خانہ اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تاہم بورڈ کے مطابق روہنی بسیسر نے اپنے علاج کے حوالے سے غیرمعمولی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے ان میں نفسیاتی بیماری یا وہم کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ وہ باقاعدگی سے اینٹی سائیکوٹک ادویات استعمال کر رہی ہیں اور آئندہ بھی طبی ماہرین کے مشورے کے مطابق علاج جاری رکھیں گی۔
بورڈ نے تمام طبی رپورٹس، ماہرین کی آراء اور ملزمہ کی موجودہ ذہنی حالت کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اب معاشرے یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ نہیں رہیں۔ اسی بنیاد پر انہیں مکمل قانونی رہائی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اس فیصلے کے بعد روہنی بسیسر پر عائد تمام عدالتی شرائط اور پابندیاں ختم ہو گئی ہیں، جبکہ یہ مقدمہ باضابطہ طور پر اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔