اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچز پہلی مرتبہ کینیڈا کی سرزمین پر منعقد ہونے کے باعث ملک بھر میں فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ گیا ہے۔
تاریخی موقع کے پیش نظر ہزاروں فٹ بال شائقین ٹورنٹو کی سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی قومی ٹیم کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔جمعہ کے روز ٹورنٹو کے ڈاؤن ٹاؤن میں ایک شاندار منظر دیکھنے میں آیا جب کینیڈا کی قومی فٹ بال ٹیم کے حامی جھنڈے اٹھائے، نعرے لگاتے اور گیت گاتے ہوئے مرکزی شاہراہوں پر مارچ کرتے نظر آئے۔ شہر کا ماحول مکمل طور پر ورلڈ کپ کے رنگ میں رنگا ہوا تھا اور ہر طرف فٹ بال کے بخار نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
کینیڈا کی ٹیم نے اپنے پہلے گروپ میچ میں بوسنیا اور ہرزیگووینا کا سامنا کرنا تھا، جس کے باعث شائقین میں غیرمعمولی جوش و خروش پایا گیا۔ میچ کے آغاز سے قبل کینیڈا سوکر کے حامیوں کا ایک بڑا جلوس کنگ اسٹریٹ پہنچا جہاں بوسنیا اور ہرزیگووینا کے شائقین بھی اپنی ٹیم کی حمایت کے لیے موجود تھے۔دونوں ممالک کے سپورٹرز نے دوستانہ ماحول میں اپنی اپنی ٹیموں کے حق میں نعرے لگائے اور ورلڈ کپ کی خوشیوں میں بھرپور انداز سے شریک ہوئے۔ مختلف رنگوں کے جھنڈوں، قومی ترانوں اور فٹ بال سے محبت کے اظہار نے پورے علاقے کو ایک بین الاقوامی فیسٹیول کا منظر پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں
فٹبال ورلڈکپ 2026 کا فاتح کون ؟ سپر کمپیوٹر نے بڑی پیش گوئی کر دی
دوسری جانب ٹورنٹو اسٹیڈیم کے اندر بھی سرگرمیاں عروج پر رہیں۔ افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے فنکاروں نے اپنی آخری ریہرسل مکمل کی جبکہ انتظامیہ نے شائقین کے استقبال کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر تاریخی ماحول دیکھنے میں آیا جہاں ہر طرف فٹ بال کے دیوانوں کا جوش و جذبہ نمایاں تھا۔ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے اپ گریڈ کیے گئے ٹورنٹو اسٹیڈیم میں تقریباً 43 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔
یہ اسٹیڈیم افتتاحی میچ کے علاوہ ٹورنامنٹ کے دوران مزید چار گروپ میچز اور ایک ناک آؤٹ مرحلے کے مقابلے کی میزبانی بھی کرے گا، جس سے شہر کی عالمی سطح پر اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی نہ صرف کینیڈین فٹ بال کے فروغ کے لیے اہم ثابت ہوگی بلکہ اس سے سیاحت، مقامی کاروبار اور معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔فٹ بال کے شائقین کے لیے یہ دن ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پہلی بار کینیڈا نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر فیفا ورلڈ کپ کے میچ کی میزبانی کی ہے۔ اس موقع کو کینیڈین کھیلوں کی تاریخ میں ایک یادگار باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔