اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پولیس اہلکاروں کے خلاف نسل پرستانہ اور امتیازی سلوک کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد عوامی اعتماد اور پولیس کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مونٹریال کی میئر سورایا مارٹینز فیرادا نے کہا ہے کہ ان الزامات نے پولیس اور کمیونٹی کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور بعض معاملات میں یہ اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔مونٹریال پولیس کے سربراہ فادی داغر نے جمعہ کی شام تصدیق کی کہ مونٹریال نارتھ کے علاقے میں تعینات دو پولیس افسران کو عوام کے ساتھ مبینہ نسل پرستانہ اور امتیازی رویے کے الزامات پر معطل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اسی پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھنے والے مزید 14 افسران کو عارضی طور پر ایسی ذمہ داریوں پر منتقل کر دیا گیا ہے جن میں عوام سے براہِ راست رابطہ شامل نہیں۔پولیس چیف کے مطابق دونوں معطل افسران کے خلاف ممکنہ فوجداری جرائم کی تحقیقات جاری ہیں، جن کی نگرانی ڈائریکٹر آف کرمنل اینڈ پینل پراسیکیوشنز کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز مارچ میں اس وقت ہوا جب مونٹریال پولیس سروس کے بعض ارکان نے متعلقہ معلومات حکام کے سامنے پیش کیں۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرِ تفتیش الزامات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ بعض پولیس اہلکار مبینہ طور پر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے بال کاٹتے اور انہیں "یادگار” یا "ٹرافی” کے طور پر اپنے پاس رکھتے تھے۔
پولیس چیف فادی داغر نے پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ یہ دعویٰ بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔واقعے کے بعد مونٹریال کی میئر سورایا مارٹینز فیرادا نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبائی وزیرِ عوامی تحفظ سے رابطہ کیا ہے اور دونوں اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ مونٹریال پولیس سروس میں باڈی کیمروں کے استعمال کے منصوبے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا، "نسلی تعصب، نسلی پروفائلنگ یا کسی بھی قسم کا تشدد مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
"ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر نے خاص طور پر مونٹریال نارتھ کے رہائشیوں اور ان افراد سے مخاطب ہو کر بات کی جنہوں نے خود کو نسلی بنیادوں پر نشانہ بنائے جانے، نگرانی کیے جانے یا نظر انداز کیے جانے کا احساس کیا۔انہوں نے کہا، "میں ان تمام لوگوں سے براہِ راست بات کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے آگے بڑھ کر اپنی شکایات درج کرائیں لیکن انہیں لگا کہ ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ میں آپ کی آواز سن رہی ہوں۔”میئر کا کہنا تھا کہ ان الزامات نے پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات کے حوالے سے جائز خدشات اور سوالات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اداروں اور کمیونٹی کے درمیان اعتماد نہایت نازک ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ مکمل طور پر مجروح بھی ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا، "ان الزامات کے بعد پیدا ہونے والی تشویش، غصہ اور سوالات بالکل جائز ہیں۔ پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں اور بعض معاملات میں یہ اعتماد واقعی ٹوٹ چکا ہے۔”میئر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کریں اور یقین دلایا کہ تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ہر ضروری اور سخت سوال اٹھائیں گی تاکہ عوام کو شفاف جواب فراہم کیے جا سکیں۔ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ واقعہ ایک بار پھر کینیڈا میں پولیسنگ، نسلی امتیاز اور عوامی اعتماد کے حوالے سے جاری بحث کو نمایاں کر رہا ہے، جبکہ مختلف کمیونٹی تنظیموں نے بھی شفاف تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔