اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری بے چینی نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ کشمیر کاز اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے دشمن عناصر کو، جن میں انہوں نے بھارت اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کا حوالہ بھی دیا، اپنے مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات خطے میں منفی پروپیگنڈے اور غلط تاثر کو فروغ دے سکتے ہیں۔انہوں نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ تمام سیاسی اختلافات اور شکایات کو پرامن، جمہوری اور آئینی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کو پرامن طریقے سے ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی الیکشن کمیشن سے قبل از وقت انتخابی شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہے اور پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل شفاف اور تمام فریقین کے اعتماد کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی سیاسی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے اور زیر التوا شکایات کے ازالے کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی کوشش کی جائے گی تاکہ تنازعات کو شفاف طریقے سے حل کیا جا سکے۔ان کے مطابق اگر وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ فریق متفق ہوں تو آزاد کشمیر حکومت احتجاج کرنے والی جماعتوں کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشنز کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، تاکہ ایسے افراد جو کسی غلط عمل میں ملوث نہیں، انہیں دوسروں کے اقدامات کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دوسری جانب بین الاقوامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ پیش رفت اور "اسلام آباد معاہدے” کے قریب پہنچنا ایک تاریخی لمحہ ہے، اور اس وقت عالمی توجہ پاکستان پر مرکوز ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور مختلف معاملات پر اندرونی و بیرونی سطح پر گفتگو جاری ہے۔