اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تاریخی معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈی میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد یہ 84.02 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی خام تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات میں کمی آئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور قیمتوں میں نمایاں کمی سامنے آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی باقاعدہ دستخطی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج اب پوری دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ تیل کی ترسیل کا نظام دوبارہ معمول پر آ جائے گا، جس کے بعد عالمی منڈیوں میں مزید مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ مستقل بنیادوں پر نافذ رہا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں استحکام بڑھے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی کے شعبے میں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کاوشوں کو اس پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کر دیا ہے۔