اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں سماجی خدمات انجام دینے والے ادارے سن یوتھ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ ادارے نے مختلف مقامات پر کام کرنے کے بجائے اب اپنی تمام سرگرمیوں کو ایک ہی جگہ منتقل کر دیا ہے، جہاں 40 ہزار مربع فٹ پر مشتمل جدید عمارت قائم کی گئی ہے۔
نئی عمارت میں غذائی امداد کا مرکز، اجتماعی باورچی خانہ، باغ، کھیلوں کا ہال اور دیگر سہولتیں موجود ہیں، جس سے مستحق افراد کو ایک ہی چھت تلے مختلف خدمات میسر آئیں گی۔
سن یوتھ ہر سال تقریباً پانچ ہزار گھرانوں، یعنی لگ بھگ سترہ ہزار افراد کی مدد کرتا ہے۔ ادارہ غذائی امداد، ہنگامی معاونت، تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ کی مدد اور گرمیوں کی تفریحی سرگرمیوں سمیت مختلف خدمات فراہم کرتا ہے۔
ادارے کی انتظامی سربراہ مرینا بولوس ونٹن کا کہنا ہے کہ تمام خدمات کا ایک ہی مقام پر دستیاب ہونا انتہائی اہم ہے تاکہ ضرورت مند افراد آسانی سے ہر سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مونٹریال کی پیشہ ورانہ فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی ریجس سیباسو نے بتایا کہ وہ بچپن میں سن یوتھ کے فٹ بال پروگرام کا حصہ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاش انہیں بھی بچپن میں ایسی جدید سہولتیں میسر ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے بچوں کو تعلیم، ورزش، تفریح اور سماجی روابط کے لیے بہترین ماحول ملنا خوش آئند ہے، جہاں وہ بہتر انسان اور اچھے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔
چارلس بالانجیرو 1995 میں ایک تربیتی پروگرام کے ذریعے سن یوتھ سے وابستہ ہوئے اور تین سال بعد مستقل ملازم بن گئے۔ انہوں نے بیس سال سے زائد عرصہ ادارے کے ساتھ گزارا اور فٹ بال پروگرام میں رضاکارانہ خدمات بھی انجام دیں۔
انہوں نے 2014 کی ایک یادگار کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیم نے فیصلہ کن کک کے ذریعے حریف ٹیم کو شکست دی اور 28 برس بعد صوبائی چیمپئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوئی، جو ادارے کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا۔
ریٹائرمنٹ کے باوجود چارلس بالانجیرو آج بھی سن یوتھ کے غذائی امداد مرکز میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس مرکز سے سالانہ اوسطاً 27 ہزار 500 مرتبہ لوگ مستفید ہوتے ہیں۔
مرینا بولوس ونٹن کے مطابق غذائی امداد حاصل کرنے والے بیشتر افراد عارضی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں نئے آنے والے تارکینِ وطن، روزگار سے محروم ہونے والے افراد اور دیگر معاشی مسائل کا سامنا کرنے والے لوگ شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 60 فیصد افراد کو صرف ابتدائی ایک سال تک مدد درکار ہوتی ہے اور حالات بہتر ہونے پر وہ خود کفیل ہو جاتے ہیں۔
ادارے کی نئی 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت کی عمارت نجی عطیہ دہندگان اور وفاقی حکومت کے مالی تعاون سے تعمیر کی گئی ہے۔ مرینا بولوس ونٹن نے واضح کیا کہ اپنی عمارت حاصل کرنے کے باوجود ادارہ اب بھی زیادہ تر نجی عطیات پر انحصار کرتا ہے اور اس کے بجٹ کا 93 فیصد حصہ عوامی عطیات سے حاصل ہوتا ہے۔