امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاملات میں گھبرانے کے بجائے حکمتِ عملی ضروری ہے،ڈینیئل اسمتھ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت ہر نئے محصولی اعلان یا دھمکی پر گھبراہٹ کا شکار ہونے کے بجائے تحمل اور دانش مندی سے کام لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایک تاجر کی حیثیت سے مذاکرات میں ہمیشہ متعدد راستے اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کے انداز کو سمجھے بغیر مؤثر نتائج حاصل کرنا مشکل ہے۔

شمالی امریکہ کے مستقبل سے متعلق ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ ٹرمپ اکثر اپنی سب سے بڑی اور بلند ترین خواہش یا مطالبہ سب سے پہلے سامنے رکھتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ان کے پاس متبادل راستے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے پاس ایک ایسا منصوبہ ہوتا ہے جسے وہ مکمل طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، پھر ایک دوسرا راستہ ہوتا ہے جسے وہ بہتر نتیجہ سمجھتے ہیں، جبکہ ایک تیسرا راستہ ایسا بھی ہوتا ہے جس پر وہ سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اکثر ایسا ہوا کہ جیسے ہی کوئی سخت مطالبہ سامنے آیا، لوگ پریشان ہو گئے اور غیر ضروری ردِعمل شروع ہو گیا، حالانکہ یہ دراصل مذاکرات کا ایک انداز تھا۔ ان کے مطابق اب حالات بدل رہے ہیں اور فریقین یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایسے معاملات میں باہمی فائدے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے، تاہم امریکہ کبھی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں اسے اپنی پوزیشن کمزور محسوس ہو۔

ڈینیئل اسمتھ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں کئی اہم معاملات زیرِ غور ہیں۔ ان میں شمالی امریکی تجارتی معاہدہ بھی شامل ہے جس کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت شمالی امریکہ میں ہونے والی بیشتر تجارت محصولات سے آزاد رہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات نسبتاً بہتر ہوئے ہیں، جبکہ سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی تھی۔

پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے قومی فروختی محصول کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حلقے اس قسم کے محصولات کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ امریکہ میں وفاقی سطح پر ایسا کوئی قومی فروختی محصول موجود نہیں۔ ان کے مطابق امریکی نقطۂ نظر یہ ہے کہ جب بھی کوئی امریکی مصنوعات سرحد پار کر کے کینیڈا میں داخل ہوتی ہیں تو وفاقی حکومت کو فروختی محصول کی صورت میں حصہ ملتا ہے، جسے بعض امریکی حلقے اضافی تجارتی بوجھ تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور تعمیری مذاکرات ہی خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں