اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں اور یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق اسلام آباد اس عمل میں ثالث کے طور پر شریک رہا اور اس معاہدے کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے جو امن اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد فراہم کرے گا۔
ان کے بیان کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی جبکہ ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدام عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات انیس جون سے شروع کیے جائیں گے تاکہ معاہدے کے عملی پہلوؤں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کی اعلیٰ قیادت، جن میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان شامل ہیں، کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلوں نے اس پیش رفت کو ممکن بنایا۔
اسی طرح انہوں نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی سفارتی کوششوں نے ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اس عمل میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن کی محنت، لگن اور فیصلہ کن کردار نے اس تاریخی پیش رفت میں اہم حصہ ڈالا۔
بین الاقوامی سطح پر اس دعوے کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقع ہے بلکہ عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کی بحالی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔