کیلگری میں رات گئے کنسرٹس پر پابندیاں برقرار، شور کم کرنے کے حق میں فیصلہ،فیسٹیول کو ریلیف دینے کی تجویز مسترد

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کیلگری سٹی کونسل نے منگل کے روز اسٹیمپیڈ کے دوران رات گئے موسیقی اور شور کی سطح سے متعلق ہنگامی بحث کی، جبکہ میئر جیرومی فارکاس نے ان سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو مقامی شور سے متعلق ضوابط کی مخالفت کر رہے ہیں۔

وارڈ 1 کی کونسلر کم ٹائرز نے کونسل میں ایک تحریک پیش کی جس میں کاؤبائز اور بیڈ لینڈز جیسے میوزک ٹینٹس پر عائد نئی شور کی حدود کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم یہ تحریک 6 کے مقابلے میں 9 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔

اس فیصلے کے بعد نئے ضوابط برقرار رہیں گے، جن کے تحت اوپن ایئر فیسٹیولز اور کنسرٹس میں ہفتے کے دنوں میں موسیقی رات 12 بجے جبکہ ہفتہ وار تعطیلات پر رات 1:30 بجے بند کرنا ہوگی۔ البتہ کونسل نے ہفتے کے دنوں میں شرکاء کے انخلا کے لیے "کول ڈاؤن” مدت کو رات 12:30 بجے سے بڑھا کر 1 بجے تک کر دیا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق کنسرٹس کے دوران اجازت شدہ شور کی سطح میں پانچ ڈیسیبل کی کمی کی گئی ہے۔

اگرچہ صوبائی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اور کاؤبائز میوزک فیسٹیول کے منتظمین پہلے ان قوانین پر تنقید کر چکے تھے، تاہم کونسل کے فیصلے کے بعد جاری کردہ بیانات میں انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ شہر نے اس معاملے پر ہنگامی بحث کی اور ہفتے کے دنوں میں کول ڈاؤن مدت میں توسیع کی۔

شہر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسٹیمپیڈ کے دوران شور سے متعلق 220 سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 125 شکایات کاؤبائز میوزک فیسٹیول کے خلاف تھیں۔

میئر جیرومی فارکاس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ "ہزاروں کیلگری شہریوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور شہر نے سرمایہ دارانہ مفادات کے بجائے عوام کی آواز سننے کو ترجیح دی۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ضابطے اچانک نافذ نہیں کیے گئے بلکہ فیسٹیول منتظمین کو فروری میں ہی ان تبدیلیوں سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

کونسل اجلاس کے دوران وارڈ 7 کے کونسلر مائیک ایٹکنسن نے اپریل میں کاؤبائز نائٹ کلب اور پینی لین انٹرٹینمنٹ کے مالک کی جانب سے دستخط شدہ ایک خط بھی پیش کیا، جس میں شہر اور فیسٹیول منتظمین کے ساتھ تعاون کا ذکر تھا۔

ایٹکنسن کے مطابق کاؤبائز انتظامیہ کو فروری میں ہی اس معاملے کی اطلاع دے دی گئی تھی اور پینی لین کے نمائندے اس حوالے سے منعقدہ ٹاؤن ہال اجلاس میں بھی شریک ہوئے تھے۔میئر فارکاس نے کہا کہ "ہم اسٹیمپیڈ کو ختم نہیں کر رہے، بلکہ صرف ایک ایسے ادارے کی بات کر رہے ہیں جو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کر رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جو منتظمین شہریوں کا احترام کرتے ہیں، ان کے ساتھ تعاون اور سمجھوتے کے لیے وہ تیار ہیں۔کیلگری اسٹیمپیڈ کو اس شور سے متعلق ضابطے سے استثنیٰ حاصل ہے، اس لیے اس تقریب پر ان تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

میئر کی "شہر سے باہر کے سیاستدانوں” پر تنقید

منگل کی رات سوشل میڈیا پر جاری ایک اور بیان میں میئر فارکاس نے کہا کہ کاؤبائز ٹینٹ اور شور کے ضابطوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے بیانیے کے حوالے سے "فضول بحث” ختم ہونی چاہیے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاستدان جان بوجھ کر اسٹیمپیڈ اور کاؤبائز میوزک فیسٹیول کو ایک ہی چیز بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

کاؤبائز فیسٹیول کے منتظمین کی جانب سے ان ضوابط کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے بعد وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ، ان کے چیف آف اسٹاف روب اینڈرسن، کیلگری کی رکنِ پارلیمان مشیل ریمپل گارنر اور کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور نے بھی ان قوانین پر تنقید کی تھی۔

فارکاس نے ان تنقیدوں کو مربوط کردار کشی مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شہر اسٹیمپیڈ کو منسوخ کر رہا ہے، حالانکہ مقصد صرف بڑے میوزک ٹینٹس پر وہی قواعد لاگو کرنا ہے جو دنیا کے معروف فیسٹیولز جیسے کوچیلا اور لولاپالوزا میں پہلے سے نافذ ہیں۔

دوسری جانب ریڈ ٹیپ کمی کے وزیر ڈیل نیلی نے صوبائی حکومت کی جانب سے شراب کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کے اعلان کے موقع پر کیلگری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس "غلط” شور کے ضابطے کو بھی واپس لے اور ایونٹ منتظمین کے ساتھ مل کر کام کرے۔

ٹورازم کیلگری کی چیف ایگزیکٹو آفیسر الیشا رینالڈز نے تصدیق کی کہ ان کی تنظیم نے باقاعدہ طور پر شہر سے درخواست کی ہے کہ مناسب مشاورت تک ان تبدیلیوں پر عملدرآمد مؤخر کیا جائے۔

اسٹیمپیڈ اور فیسٹیولز میں البرٹا شیرفس کی تعیناتی

ادھر صوبائی وزیر برائے عوامی تحفظ مائیک ایلس نے اعلان کیا ہے کہ البرٹا شیرفس بھی کیلگری پولیس کے ساتھ مل کر اسٹیمپیڈ کے دوران گشت کریں گے۔

ان کے مطابق اضافی اہلکار تقریبات کے دوران عوامی تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور گزشتہ سال شور کی شکایات اور عوامی بدامنی جیسے مسائل پر بھی نظر رکھیں گے۔

مائیک ایلس نے کہا کہ "اس قسم کے مسائل ناقابل قبول ہیں، اسی لیے ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی بڑھا رہے ہیں تاکہ قریبی رہائشیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور تمام شہری اور سیاح محفوظ اور خوشگوار اسٹیمپیڈ سے لطف اندوز ہو سکیں۔”

ان کے ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر کم از کم ایک درجن شیرفس تعینات کیے جائیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر مزید اہلکار بھی طلب کیے جا سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں