کیلگری میں موسمِ گرما کی تقریبات کے لیے نئے قوانین پر تنازع، تفریحی اور سیاحتی شعبے میں تشویش

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں موسمِ گرما کی کھلی فضاء میں ہونے والی تقریبات کے لیے متعارف کرائے گئے نئے شور (نوائز) کے قوانین پر تنقید کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں فیسٹیول منتظمین، صوبائی حکام اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ ان تبدیلیوں سے شہر کی تفریحی اور سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

شہری انتظامیہ نے فروری میں تقریبات کے منتظمین کو نئے ضوابط سے آگاہ کیا تھا، جن کا مقصد پارٹی ٹینٹس اور آؤٹ ڈور مقامات سے رات گئے ہونے والے شور کو کم کرنا ہے۔ نئے قوانین کے تحت ہفتے کے دنوں میں ہونے والی تقریبات میں موسیقی رات 12 بجے تک بند کرنا لازمی ہوگی، جبکہ آواز کی مقررہ حد میں پانچ ڈیسیبل کی کمی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریبات کے اختتام سے قبل 30 منٹ تک کم آواز میں موسیقی بجانے کا مرحلہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ہفتہ اور اتوار کی راتوں میں موسیقی صبح 2 بجے تک جاری رکھی جا سکے گی۔

دوسری جانب سالانہ کنٹری میوزک فیسٹیول "کنٹری تھنڈر” کے منتظمین کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے ان کے پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

فیسٹیول کی ڈیجیٹل منیجر میگن بینوا نے کہا کہ ان کے فیسٹیول میں ہمیشہ سے رات 11 بجے کا کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فنکاروں کو پہلے ہی شور سے متعلق پابندیوں سے آگاہ کر دیا جاتا ہے اور منتظمین جانتے ہیں کہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے یا مستقبل کے لائسنس متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ معاملہ جلد ہی سیاسی رنگ بھی اختیار کر گیا۔ البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے سوشل میڈیا پر ان قوانین کو "تفریح دشمن پالیسی” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ادھر کیلگری کے میئر جیرومی فارکاس نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر جوابی تنقید کی اور کہا کہ وہ خود بھی شراب کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کے ذریعے اسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جسے صوبائی حکومت نے حال ہی میں واپس لے لیا ہے۔

صوبائی وزیر ڈیل نیلی نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے شہر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس "غلط سمت میں اٹھائے گئے اقدام” کو واپس لے اور اس کے بجائے صنعت سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر روزگار، سیاحت اور کیلگری کے متحرک موسیقی کے شعبے کو فروغ دینے پر توجہ دے۔

شہر کے سیاحتی شعبے نے بھی ان قوانین پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹورازم کیلگری کی چیف ایگزیکٹو آفیسر علیشا رینالڈز نے تصدیق کی کہ ان کی تنظیم نے باضابطہ طور پر شہر سے درخواست کی ہے کہ صنعت کے نمائندوں سے مشاورت مکمل ہونے تک ان قوانین کے نفاذ کو مؤخر کیا جائے۔

میئر فارکاس نے نئے ضوابط کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال موصول ہونے والی سینکڑوں شکایات کے بعد یہ اقدامات کیے گئے۔ ان کے مطابق فیسٹیول مقامات کے قریب رہنے والے شہریوں نے شکایت کی تھی کہ بلند آواز موسیقی کی وجہ سے ان کے گھروں کی کھڑکیاں لرزتی تھیں اور بعض اوقات گھر میں رکھی اشیا بھی اپنی جگہ سے ہل جاتی تھیں۔

شہر کی معروف تقریب "کیلگری اسٹیمپیڈ” کو ان پابندیوں سے استثنا حاصل ہے، کیونکہ شہر کی ویب سائٹ پر موجود ایک دیرینہ شق کے مطابق اسٹیمپیڈ کی سرگرمیاں بلدیاتی شور کے قوانین کے دائرۂ کار میں نہیں آتیں۔

دریں اثنا، مقبول "کاؤ بوائز میوزک فیسٹیول” نے شور سے استثنا کے لیے خصوصی اجازت نامے کی درخواست دی ہے، تاہم شہری حکام کا کہنا ہے کہ اس مقام کے لیے کوئی خصوصی قانون سازی نہیں کی گئی۔

یہ تنازع اس مشکل توازن کو اجاگر کرتا ہے جس کا سامنا کیلگری کو ہے، جہاں ایک جانب شہریوں کے سکون اور شور سے متعلق خدشات ہیں، جبکہ دوسری جانب موسمِ گرما کے فیسٹیولز، رات کی تفریح اور سیاحتی صنعت کی معاشی و ثقافتی اہمیت بھی موجود ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں