اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں ایک شہری نے اسٹریٹ سویپنگ (سڑکوں کی صفائی) کے دوران نافذ پارکنگ قوانین کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ناجائز طور پر جرمانہ کیا گیا، جبکہ وہ اپنے خیال میں تمام قواعد پر عمل کر رہا تھا۔
شہرِ کیلگری کی جانب سے رواں سال اب تک ان ڈرائیوروں کو تقریباً 39 ہزار جرمانے جاری کیے جا چکے ہیں جنہوں نے اسٹریٹ سویپنگ کے دوران ممنوعہ مقامات پر اپنی گاڑیاں کھڑی رکھیں۔ گزشتہ سال بھی ایسے 34 ہزار سے زائد جرمانے کیے گئے تھے۔
حالیہ جرمانہ برائیڈل ووڈ کے رہائشی بریڈ میک ڈوگل کو ملا، جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی گاڑی مقررہ وقت تک سڑک سے ہٹا دی تھی، اس کے باوجود انہیں 80 ڈالر کا جرمانہ کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام صرف عوام سے پیسے وصول کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، اسی لیے وہ ان پڑوسیوں کے دستخط بھی جمع کر رہے ہیں جنہیں اسی طرح جرمانے کیے گئے۔
بریڈ میک ڈوگل کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ اسٹریٹ سویپنگ کے دن صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک گاڑیاں سڑک سے ہٹانا ضروری ہے، تاہم اس دن ان کے پاس گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا، "میری اہلیہ کی گاڑی گیراج میں تھی جبکہ گیراج کا دوسرا حصہ میری ریٹائرمنٹ ورکشاپ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ میں نے اپنا ٹرک گھر کے عقب میں کھڑا کیا اور ہماری مہمان بیٹی کی گاڑی سامنے لان میں رکھ دی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسی روز بلیو بن اور گرین بن کے ذریعے کچرا اور ری سائیکلنگ جمع کرنے کا دن بھی تھا، جس کے باعث گلی میں پہلے ہی جگہ بہت کم تھی۔
بریڈ میک ڈوگل کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے صفائی کرنے والی مشینوں کو گلی صاف کرتے دیکھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی گاڑی دوبارہ سڑک پر کھڑی کر دی، لیکن بعد میں انہیں جرمانہ موصول ہو گیا۔
شہری حکومت کے مطابق پارکنگ پر پابندی صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک برقرار رہتی ہے، اور ڈرائیورز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ صفائی مکمل ہوتی نظر آنے کے باوجود بھی شام 4 بجے سے پہلے گاڑیاں واپس سڑک پر نہ لائیں، کیونکہ صفائی کرنے والی مشینیں ایک ہی سڑک پر ایک سے زیادہ مرتبہ بھی آ سکتی ہیں۔
بریڈ میک ڈوگل کا کہنا ہے کہ شہریوں سے یہ توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ وہ اپنی گاڑیاں مسلسل آٹھ گھنٹے تک کہیں اور کھڑی رکھ سکیں۔انہوں نے سوال اٹھایا، "آخر لوگ اپنی گاڑیاں آٹھ گھنٹے کہاں لے کر جائیں؟ کیا میں مقامی سپر مارکیٹ کی پارکنگ استعمال کروں؟ یقیناً وہ بھی اس کی اجازت نہیں دیں گے۔”
علاقے کے کونسلر ڈین میک لین نے کہا کہ اگرچہ قوانین اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم وہ شہریوں کے تحفظات کو سمجھتے ہیں اور اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔ ان کے مطابق کچرا اٹھانے کے شیڈول میں تبدیلی یا جرمانوں کی رقم کم کرنے جیسے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ڈین میک لین نے کہا، "میں شہریوں کی ناراضی کو سمجھتا ہوں، میں بھی ایسی صورت میں پریشان ہوتا۔ شہر کا مؤقف یہ ہے کہ صفائی کرنے والی مشینیں بعض اوقات ایک ہی سڑک پر دوبارہ بھی آتی ہیں، اسی لیے شام 4 بجے تک انتظار ضروری ہے۔”
دوسری جانب بریڈ میک ڈوگل کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت مزید غصہ آیا جب معلوم ہوا کہ صفائی مکمل ہو چکی تھی، اس کے باوجود انہیں جرمانہ کر دیا گیا۔انہوں نے کہا، "شہر انتظامیہ چاہے جو بھی طریقہ اختیار کرے، میں اس ضابطے کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔”
شہرِ کیلگری کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ اسٹریٹ سویپنگ کے دن، خاص طور پر جب کچرا اور ری سائیکلنگ بھی اسی روز جمع کی جا رہی ہو، پارکنگ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق مختلف شہری خدمات کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم بعض اوقات ان کے اوقات میں پھر بھی ٹکراؤ ہو جاتا ہے۔