اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مالیاتی نیٹ ورک بے نقاب کر دیا گیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں مبینہ طور پر ملوث متعدد افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کالعدم قرار دی گئی تنظیم کا مالیاتی نیٹ ورک آزاد کشمیر میں مبینہ طور پر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر رقوم اکٹھی کرنے میں ملوث تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے بیرونِ ملک سے بھی فنڈز حاصل کیے جا رہے تھے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق یہ مالی وسائل راولاکوٹ میں دھرنے اور دیگر مبینہ پرتشدد سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے وابستہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے ایک مبینہ سہولت کار مہتاب احمد نے بیان دیا ہے کہ کالعدم کمیٹی کے مبینہ سربراہ حمزہ نے انہیں مختلف افراد سے فنڈز اکٹھے کرکے راولاکوٹ پہنچانے کی ہدایت کی تھی، تاہم آزاد جموں و کشمیر پولیس نے انہیں فنڈز لے جاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔
اسی طرح ایک اور گرفتار مبینہ سہولت کار رضوان کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے بیان دیا کہ اسے مختلف افراد سے رقوم وصول کرکے مہتاب احمد کے حوالے کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
حکام کے مطابق مبینہ سربراہ حمزہ کے والد نے بھی مالی معاونت کا اعتراف کرتے ہوئے بیان دیا کہ ان کے بیٹے نے راولاکوٹ کے لیے ان سے رقم منگوائی تھی۔ ان کے مطابق وہ آئندہ اس تنظیم سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھیں گے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ جمع کی گئی یہ رقوم تنظیم کی مبینہ سرگرمیوں پر خرچ کی جاتی تھیں۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ بعض افراد نے کالعدم تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شہریوں سے زبردستی یا دباؤ کے ذریعے رقوم اکٹھی کرنے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ایسی سرگرمیاں عوامی مفادات کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق سستے آٹے، سستی بجلی اور عوامی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی کوئی بھی تحریک اگر تشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک ہو جائے تو وہ اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ جاتی ہے۔