اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز) کینیڈا ڈے کے موقع پر جہاں ملک بھر میں جشنِ آزادی کی تقریبات جاری ہیں، وہیں البرٹا کے مستقبل سے متعلق جاری سیاسی بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ صوبے میں آئندہ ریفرنڈم سے قبل کینیڈا میں رہنے اور علیحدگی کے حامی عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اس قومی دن پر البرٹا کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں۔
آئندہ 19 اکتوبر کو البرٹا کے ووٹرز یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا صوبہ کینیڈا کا حصہ برقرار رکھے یا علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک دوسرے، لازمی ریفرنڈم کی راہ ہموار کی جائے۔
ریفرنڈم کی انتخابی مہم گزشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہو چکی ہے، جبکہ دونوں مؤقف رکھنے والے مختلف گروپ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
کینیڈا کے حق میں مہم چلانے والے اور البرٹا کے سابق نائب وزیرِاعلیٰ تھامس لوکاشک کا کہنا ہے کہ البرٹا کے شہریوں کو اس آزادی، استحکام اور مواقع کو یاد رکھنا چاہیے جو کینیڈا اپنے شہریوں کو فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا دنیا بھر میں ایک مثالی ملک کے طور پر جانا جاتا ہے اور البرٹا کے عوام کو اس حقیقت کی قدر کرنی چاہیے۔
تھامس لوکاشک ایک بار پھر اپنی "یونٹی بس” کے ذریعے البرٹا کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔ سرخ اور سفید رنگوں سے سجی اس بس کے ذریعے وہ کینیڈا کے حق میں مہم چلا رہے ہیں اور شہریوں میں حمایتی بورڈ تقسیم کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال انہوں نے چار لاکھ سے زائد دستخطوں پر مشتمل ایک درخواست صوبائی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کو پیش کی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ علیحدگی سے متعلق ریفرنڈم نہ کرایا جائے اور اسے صوبائی پالیسی کے طور پر ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیا جائے۔
دوسری جانب البرٹا کی علیحدگی کے حامی وکیل کیتھ ولسن کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بڑھتی مہنگائی، معاشی مشکلات اور وفاقی حکومت کی توانائی سے متعلق پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق البرٹا کے تیل کے وسائل کی پیداوار اور ترسیل کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری پر انحصار اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ نظام صوبے کے مفادات کے مطابق کام نہیں کر رہا۔
کیتھ ولسن کینیڈا ڈے کے موقع پر ریڈ ڈیئر کے مشرق میں واقع ایک چھوٹی بستی میں منعقد ہونے والی "البرٹنز ڈے ریلی” میں شرکت کریں گے، جہاں تقاریر، موسیقی اور بچوں کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کینیڈا پہلے جیسا ملک نہیں رہا، نہ معاشی اعتبار سے، نہ معیارِ زندگی کے لحاظ سے اور نہ ہی عوام کی مالی استطاعت کے حوالے سے، جبکہ البرٹا اپنی صلاحیت کے مطابق کہیں بہتر مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔
دوسری جانب وزیرِاعظم مارک کارنی اور وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ دونوں البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کے حامی ہیں۔
وزیرِاعظم مارک کارنی کینیڈا ڈے کی تقریب سے خطاب کے لیے ایڈمنٹن پہنچ رہے ہیں، جبکہ وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کیلگری میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کریں گی۔
وزیرِاعلیٰ اسمتھ اس بات کا بھی اعلان کر چکی ہیں کہ وہ جمعرات کو مغربی ساحل تک مجوزہ بٹومن پائپ لائن سے متعلق اپنی حکومت کا منصوبہ پیش کریں گی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں مجوزہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ البرٹا کو کینیڈا سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
تاہم کیتھ ولسن کا مؤقف ہے کہ اگر توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی وفاقی حکومت سے خصوصی معاہدے کرنے پڑیں تو یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ وفاقی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔ ان کے بقول وفاقی حکومت البرٹا کے اختیارات پر اثر انداز ہو رہی ہے اور صوبے کی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔