امریکا نے کینیڈا، امریکا، میکسیکو تجارتی معاہدہ موجودہ شکل میں تجدید نہ کرنے کا اعلان کر دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کینیڈا، امریکا اور میکسیکو تجارتی معاہدے (CUSMA) کی موجودہ شکل میں تجدید نہیں کرے گا، تاہم مذاکرات جاری رہنے تک یہ معاہدہ بدستور نافذ العمل رہے گا۔

بدھ کو جاری بیان میں جیمیسن گریئر نے کہا کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ معاہدے کی خامیوں اور ان ممالک کے ساتھ تجارتی خسارے سے متعلق معاملات پر بات چیت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ان مسائل کے حل یا معاہدے کے باضابطہ خاتمے تک CUSMA برقرار رہے گا۔

اس فیصلے کے بعد معاہدہ اب سالانہ جائزے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جو زیادہ سے زیادہ 10 برس تک جاری رہ سکتا ہے۔ اگر اس دوران توسیع پر اتفاق نہ ہوا تو معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

بدھ کے روز جیمیسن گریئر نے کینیڈا کے وزیر برائے کینیڈا۔امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک اور میکسیکو کے وزیر معیشت مارسیلو ایبرارڈ کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں معاہدے کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔ یہی وہ آخری تاریخ تھی جس تک تینوں ممالک کو یہ بتانا تھا کہ آیا وہ معاہدے کی تجدید چاہتے ہیں یا نہیں۔

کینیڈا اور میکسیکو پہلے ہی معاہدے میں مزید 16 سال کی توسیع کی حمایت کر چکے ہیں۔

ڈومینک لی بلانک نے اپنے بیان میں کہا کہ تینوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی امریکا کی خوشحالی اور مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے فریم ورک پر بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے لیے اس میں امریکی جانب سے کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی پر عائد شعبہ جاتی ٹیرف کے معاملے پر بامعنی مذاکرات بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب میکسیکو کے وزیر معیشت مارسیلو ایبرارڈ نے سوشل میڈیا پر ہسپانوی زبان میں جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ میکسیکو کو جلد بازی نہیں، تاہم وہ سالانہ جائزوں کی وجہ سے طویل غیر یقینی صورتحال بھی نہیں چاہتا۔

CUSMA نے اب تک کینیڈا اور میکسیکو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی ٹیرف سے تحفظ فراہم کیا ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اسٹیل، ایلومینیم، آٹوموبائل اور دیگر صنعتوں پر عائد علیحدہ امریکی محصولات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران شمالی امریکا آزاد تجارتی معاہدے (NAFTA) کی جگہ نافذ کیا گیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ متعدد بار اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے اسے "غیر متعلقہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شاید یہ اپنا مقصد پورا کر چکا ہے۔

معاہدہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کسی ایک رکن ملک کی جانب سے اس سے علیحدگی کے لیے چھ ماہ پہلے باضابطہ نوٹس نہیں دیا جاتا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسا قدم اٹھا سکتی ہے یا نہیں۔

اس وقت امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے۔

کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے تجارتی امور کے ناقد شوو مجمدار نے کہا کہ لاکھوں کینیڈین بے روزگاری، غیر یقینی صورتحال اور کاروباری منصوبہ بندی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود کینیڈا اب تک مذاکرات کی میز پر موجود نہیں۔

اس کے جواب میں ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا مضبوط مؤقف کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوگا اور دنیا کے کامیاب ترین تجارتی تعلقات میں سے ایک کو محفوظ اور مزید مضبوط بنانا اس کا بنیادی مقصد ہے۔

ادھر یونیورسٹی آف کیلگری کے اسکول آف پبلک پالیسی سے وابستہ بین الاقوامی پالیسی اور نیو نارتھ امریکا انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر کارلو ڈیڈ نے کہا کہ تجدید کی مقررہ تاریخ گزر جانے کا فوری طور پر معاہدے کے مستقبل پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا، بشرطیکہ تعمیری مذاکرات اور رابطے جاری رہیں۔

ان کے مطابق منڈیاں اب امریکا کے ساتھ غیر یقینی صورتحال کو ایک نئی حقیقت کے طور پر قبول کرنا شروع کر چکی ہیں، تاہم اس غیر یقینی کی معاشی قیمت سے بھی آگاہی بڑھ رہی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں