اردو ورلڈکینیڈا ( ویب نیوز ) شام کے دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے سرکاری دورے کے دوران دو بم دھماکوں میں کم از کم 18 افراد زخمی ہو گئے، جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں
فرانسیسی صدر محفوظ رہے اور اپنی تمام سرکاری مصروفیات معمول کے مطابق جاری رکھیں۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پہلا دھماکا اس وقت ہوا جب صدر میکرون کا قافلہ اس ہوٹل سے روانہ ہوا جہاں وہ شام کی سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے تھے۔
کچھ ہی دیر بعد دوسرا دھماکا ایک ایمبولینس کے قریب ہوا، جہاں امدادی کارروائیوں کے لیے متعدد افراد جمع تھے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد قریبی علاقے سے آگ کے شعلے اور سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا، جبکہ کئی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور اضافی نفری تعینات کر دی۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔شامی حکام کے مطابق دھماکے اس سکیورٹی حصار سے باہر ہوئے جہاں فرانسیسی صدر کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا گیا تھا، اس لیے ان کی جان کو کوئی براہِ راست خطرہ لاحق نہیں ہوا۔دوسری جانب فرانسیسی صدارتی دفتر نے تصدیق کی کہ دھماکوں کی آواز صدر میکرون کے قافلے تک نہیں پہنچی اور نہ ہی ان کے ہمراہ موجود صحافیوں نے کسی ہنگامی صورتِ حال کا سامنا کیا۔
صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ صدر میکرون نے تمام طے شدہ ملاقاتیں اور سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھیں۔صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر مختصر بیان میں کہا، "میرا دورۂ شام جاری ہے۔” ان کا یہ دورہ شام کی نئی قیادت کے قیام کے بعد کسی بڑے مغربی رہنما کا اہم سفارتی دورہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حالیہ بم دھماکوں نے ملک میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔