امریکا پر کینیڈین عوام کا اعتماد کمزور، نئی رائے شماری میں تشویشناک رجحانات سامنے آگئے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کی جانب سے حال ہی میں اپنی 250ویں سالگرہ منائے جانے کے موقع پر سامنے آنے والے ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کینیڈا اور امریکا کے تعلقات حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کینیڈین عوام کی نظر میں امریکا کی قابلِ اعتماد اتحادی کی حیثیت بھی کمزور پڑ گئی ہے۔

یہ تبدیلی خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد زیادہ نمایاں ہوئی ہے، اگرچہ امریکا اب بھی کینیڈا کے اہم ترین اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت امریکا اندرونی سیاسی تقسیم اور اختلافات کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

بین الاقوامی ادارے پیو ریسرچ کے تازہ سروے کے مطابق صرف 35 فیصد کینیڈین امریکا کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے ہیں، جبکہ 2022 میں یہی شرح 80 فیصد سے زائد تھی۔

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ صرف 33 فیصد کینیڈین امریکا کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جو 2025 میں 34 فیصد اور 2024 میں 54 فیصد تھی۔ اس طرح دو برسوں میں امریکی ساکھ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

کیلگری سے تعلق رکھنے والی شہری جوڈی گرے کا کہنا تھا کہ امریکا کی موجودہ پالیسیاں کینیڈا کے لیے جارحانہ اور محاذ آرائی پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ امریکی قیادت کے دور میں بے یقینی اور انتشار کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

ایک اور شہری کیمیلا بیارڈو نے کہا کہ امریکی ٹیرف نے کینیڈا کی منڈی اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر برا اثر ڈالا ہے۔ ان کے مطابق بیشتر سپر مارکیٹوں میں دستیاب مصنوعات امریکی برانڈز کی ہوتی ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تجارتی تعلقات برقرار رہنا ضروری ہے تاکہ اشیائے ضروریہ مناسب قیمت پر دستیاب رہ سکیں۔

دوسری جانب، Andy Knight، جو University of Alberta میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکا کی عالمی بالادست طاقت کے طور پر اہمیت بتدریج کم ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اب بھی کینیڈا کے قریبی اتحادیوں میں شامل ہے، لیکن اب اسے پہلے جیسا قابلِ اعتماد ساتھی نہیں سمجھا جا سکتا، جس سے کینیڈا کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نہایت اہم ہیں اور کینیڈا امریکا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے (CUSMA) کو موجودہ شکل میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل کے تجارتی مذاکرات کے حوالے سے اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے سالانہ جائزے کے دوران مذاکرات کے طریقۂ کار سے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔

کینیڈا اور میکسیکو کی خواہش تھی کہ موجودہ تجارتی معاہدہ مزید 16 سال تک برقرار رہے، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاہدہ اپنی افادیت پوری کر چکا ہے اور اس میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔

اینڈی نائٹ نے سابق کینیڈین وزیر خارجہ Lloyd Axworthy کی ایک مشہور تشبیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کینیڈا اور امریکا کے تعلقات کو "خارپشت (Porcupine) سے محبت کرنے” کے مترادف قرار دیا تھا، یعنی ایسا تعلق ممکن تو ہے مگر نہایت مشکل۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں یہ مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

ادھر کینیڈا نے حال ہی میں اپنی 159ویں سالگرہ منائی ہے۔ اینڈی نائٹ کے مطابق کینیڈا کی قومی شناخت اور عالمی کردار مضبوط ہو رہا ہے، اس لیے ملک کو نئی عالمی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنے اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید متنوع بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جغرافیہ تبدیل نہیں ہو سکتا، تاہم اگر امریکا مستقبل میں قابلِ اعتماد شراکت دار ثابت نہیں ہوتا تو کینیڈا کو دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے ہوں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں