اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور ایران کے درمیان قائم عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر شدید فوجی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا عارضی معاہدہ (MoU) اب ختم ہو چکا ہے اور امریکا مزید کسی قسم کی مفاہمت یا مذاکرات جاری نہیں رکھے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر نئی فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔نیٹو اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور اب مزید مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب جنگ بندی کے خاتمے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ امریکی خام تیل بھی نمایاں مہنگا ہوگیا۔ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی یہ محاذ آرائی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت، تیل کی رسد اور عالمی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی اپیل کر رہی ہے۔