اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ موجود مفاہمتی یادداشت (MoU) اب ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ مزید کسی قسم کی ڈیل یا مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ گرین لینڈ اور ایران کے معاملے پر نیٹو کے مؤقف سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو چکی ہے اور اب ان کی ترجیح ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، "میں ایرانیوں سے ڈیل نہیں کرنا چاہتا۔ ایران کے ساتھ اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ ضرور استعمال کرتے۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران پر سخت حملہ کیا اور پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اگر ایران کی جانب سے حملہ کیا گیا تو امریکا بھرپور جواب دے گا۔ ان کے مطابق امریکی پالیسی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا، "ہم ایران کو غیر جوہری بنا کر رہیں گے۔ وہ اچھے لوگ نہیں ہیں، وہ سب کو نشانہ بناتے ہیں، حتیٰ کہ مجھے بھی۔”اپنی گفتگو میں امریکی صدر نے ایران کے مسئلے کو "کینسر” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے کینسر کو ابتدا ہی میں ختم کیا جاتا ہے، اسی طرح ایران کے معاملے سے بھی نمٹنا ضروری ہے۔دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ موجود ہے۔امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے تازہ صورتحال پر مزید بیانات اور سفارتی سرگرمیوں پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ اس کشیدگی کے خطے اور عالمی معیشت پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔