اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز) ایران کی مسلح افواج نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو سخت انتباہ جاری کر دیا ۔
ایران نے کہا ہے کہ جو بھی ملک، فوجی اڈہ یا تنصیب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کسی بھی نوعیت کی مدد فراہم کرے گی، اسے ایرانی افواج کی جانب سے "جائز فوجی ہدف” تصور کیا جائے گا۔ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی میں امریکی افواج کی ہر قسم کی معاونت ناقابل قبول ہے، اور ایسی سہولت فراہم کرنے والے تمام مقامات ایرانی مسلح افواج کی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا، "جارح امریکی فوج کو ایران کی خودمختاری اور سرزمین کے خلاف کارروائیوں میں فراہم کی جانے والی ہر قسم کی مدد ایرانی مسلح افواج کی نظر میں ایک جائز ہدف ہوگی۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی اور مفاہمتی فریم ورک کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا کی تازہ فوجی کارروائیاں طے شدہ معاہدوں کے منافی ہیں، جبکہ واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی کارروائیاں عمل میں آئیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کا تازہ انتباہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور ان ممالک کے لیے اہم پیغام ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔
تاہم ایرانی حکام نے اپنے بیان میں کسی مخصوص ملک یا فوجی اڈے کا نام نہیں لیا۔علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایرانی بندرگاہ بندر ماہشہر میں امریکی ڈرونز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ تاہم ایرانی حکام نے ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت یا واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی سامنے نہیں آئی ہے۔