اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی جانب سے صوبے میں قائم کیے جانے والے 13 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بڑے ڈیٹا سینٹر سے نہ شہریوں کے بجلی کے بل بڑھیں گے اور نہ ہی پانی کی فراہمی پر کوئی منفی اثر پڑے گا۔
ہفتے کے روز اپنے ریڈیو کال اِن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈینیئل اسمتھ نے عوام کے خدشات دور کرتے ہوئے کہا کہ ایڈمنٹن کے شمال میں تعمیر ہونے والے اس ڈیٹا سینٹر کو ابتدائی طور پر البرٹا کے بجلی کے گرڈ میں موجود اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ 2030 میں گرین لائٹ الیکٹرسٹی سینٹر کی جانب سے قدرتی گیس سے چلنے والا نیا بجلی گھر مکمل ہونے کے بعد ڈیٹا سینٹر کو مستقل طور پر وہاں سے بجلی فراہم کی جائے گی۔
پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کے مطابق، یہ ڈیٹا سینٹر پانی بھی محدود مقدار میں استعمال کرے گا، جو ایک گالف کورس کے استعمال کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بند سرکٹ (کلوزڈ لوپ) واٹر کولنگ سسٹم نصب کیا جائے گا، جس کے باعث اردگرد کے آبی ذخائر سے مسلسل پانی لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ البرٹا کے اسٹرجن کاؤنٹی میں ایک گیگا واٹ صلاحیت کا جدید ڈیٹا سینٹر تعمیر کرے گی۔
کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 6 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس میں سڑکوں اور پانی کے نظام کو اپ گریڈ کرنا بھی شامل ہے۔