کینیڈا نے امیگریشن کنسلٹنٹس کی نگرانی کے نظام میں بڑی تبدیلیاں نافذ کر دیں

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا نے امیگریشن کنسلٹنٹس کی نگرانی کے نظام میں بڑی تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، تاہم ماہرین اور متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط بھی ممکنہ طور پر تارکین وطن کو دھوکہ دہی سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکیں گے۔

وفاقی حکومت نے مئی میں ان نئے قواعد کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد کالج آف امیگریشن اینڈ سٹیزن شپ کنسلٹنٹس (CICC) کی نگرانی کو مضبوط بنانا اور اس کے کردار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب حالیہ برسوں میں امیگریشن فراڈ کے کئی مقدمات سامنے آئے، جن میں اونٹاریو میں بین الاقوامی طلبہ کو نشانہ بنانے والا ایک بڑا فراڈ بھی شامل تھا، جس میں رجسٹرڈ امیگریشن کنسلٹنٹس کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک شہری، جسے او ایم این آئی نیوز نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، نے بتایا کہ وہ 2022 میں کینیڈا آیا تھا۔ اس کے مطابق جب اس نے ایک امیگریشن کنسلٹنٹ سے مدد طلب کی تو اسے ملک میں رہنے کا راستہ نکالنے کے لیے ایک لاکھ کینیڈین ڈالر تک ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ بعض اوقات اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں بچا، اور اس کا معاملہ منفرد نہیں بلکہ بہت سے افراد اسی طرح کے تجربات سے گزر رہے ہیں۔

برٹش کولمبیا کے سول مقدمات کے وکیل ایون لوگن، جو امیگریشن کنسلٹنٹس کے خلاف شکایات درج کرانے والے مؤکلوں کی نمائندگی کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ بہت سے متاثرین شکایت درج کرانے سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اس سے ان کی امیگریشن درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک مؤکل نے ایک کنسلٹنٹ کے خلاف شکایت درج کرائی تو اسی کنسلٹنٹ نے اپنے ہی مؤکل کے خلاف کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) کو فراڈ کی اطلاع دے دی۔

ایون لوگن نے امید ظاہر کی کہ نئے ضوابط مثبت اثر ڈال سکتے ہیں، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ CICC پہلے سے موجود اختیارات، مثلاً شکایت موصول ہونے سے پہلے کنسلٹنٹس کا آڈٹ کرنے کا اختیار، مؤثر طریقے سے استعمال کیوں نہیں کر رہا۔

ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا ادارے کے پاس وسائل کی کمی ہے، حالانکہ اس کا سالانہ بجٹ تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ کینیڈین ڈالر ہے، یا پھر مسئلہ عمل درآمد کے عزم کا ہے۔

CICC کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی 2024 سے 30 جون 2025 کے درمیان ادارے کو 1,211 نئی شکایات موصول ہوئیں، لیکن صرف 15 تادیبی کارروائیاں کی گئیں۔ اس سے ایک سال پہلے یہ تعداد صرف 11 تھی۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بدھ سے نافذ ہونے والے نئے اقدامات کے تحت بدعنوانی کی تحقیقات میں شفافیت بڑھائی جائے گی، ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے کنسلٹنٹس پر زیادہ سخت سزائیں عائد کی جا سکیں گی، جبکہ متاثرین کے لیے معاوضہ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

ایون لوگن کے مطابق یہ معاوضہ فنڈ متاثرین کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس کے ذریعے فراڈ کا شکار افراد واقعی اپنا مالی نقصان واپس حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں