اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ترجمان ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کا خطے کی مسلم ریاستوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات، علاقائی تعاون اور مشترکہ استحکام ہمیشہ ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ایران کی خواہش ہے کہ خطے کے تمام ممالک باہمی احترام، خودمختاری کے احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دیں۔
ان کے مطابق ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقائی مسائل کا حل بیرونی مداخلت کے بجائے خطے کے ممالک کے درمیان مذاکرات اور تعاون سے نکالا جانا چاہیے۔انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کے نتائج صرف ایک محدود علاقے تک نہیں رہیں گے بلکہ جنگ نئے محاذوں تک پھیل سکتی ہے، جس سے پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ خطے سے باہر کے ممالک اگر ایران کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں باہمی احترام، بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق دباؤ، دھمکیوں یا فوجی طاقت کے ذریعے ایران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے، تاہم اگر اس پر حملے کیے گئے یا اس کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطہ کسی بڑے تنازع سے محفوظ رہ سکے۔