33 سال قید کے بعد اہم پیش رفت، کینیڈا کے وفاقی وزیرِ انصاف نے چار قتل کے مقدمے میں نئے ٹرائل کا حکم دے دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وفاقی وزیرِ انصاف شان فریزر نے کیوبیک کے رہائشی ڈینیئل جولیویٹ کے خلاف چار افراد کے قتل کے مقدمے میں نئے ٹرائل کا حکم دے دیا ہے۔

وزیرِ انصاف نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ انہیں یہ یقین کرنے کے معقول اسباب ملے ہیں کہ اس مقدمے میں ممکنہ طور پر انصاف کی فراہمی میں غلطی ہوئی ہے۔

شان فریزر نے کہا کہ فوجداری قانون کے تحت اگر نئے شواہد سے یہ ظاہر ہو کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، تو وزیرِ انصاف کو نئے ٹرائل یا اپیل کا حکم دینے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ کسی شخص کے قصوروار یا بے گناہ ہونے کا تعین نہیں کرتا، کیونکہ اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

ڈینیئل جولیویٹ کو 1994 میں نومبر 1992 میں دو مردوں اور دو خواتین کے قتل کے مقدمے میں دو الزامات کے تحت پہلی درجے کے قتل اور دو الزامات کے تحت دوسری درجے کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔69 سالہ جولیویٹ نے ہمیشہ خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ وہ 33 سال قید کاٹنے کے بعد دسمبر 2025 میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس مقدمے میں ممکنہ طور پر انصاف سے انحراف ہوا ہے، جس کے بعد محکمہ انصاف کے فوجداری سزا جائزہ پینل نے تحقیقات شروع کیں۔

وزیرِ انصاف نے کہا کہ ان کا فیصلہ ایسے نئے شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو مقدمے کی سماعت یا اپیل کے وقت عدالتوں کے سامنے موجود نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بعض غیر معمولی مقدمات میں نئے شواہد کی روشنی میں کیس دوبارہ عدالتوں کو بھیجنا ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب کیوبیک کے محکمہ فوجداری و تعزیری استغاثہ نے کہا ہے کہ وہ پولیس کے تعاون سے تمام شواہد کا جائزہ لے گا تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ مقدمے کی کارروائی جاری رکھنا عوامی مفاد میں ہے یا نہیں۔

محکمہ کے ترجمان لوکاس باسٹین نے بتایا کہ نئے ٹرائل کے حکم کے بعد مقدمہ قانونی طور پر اس مرحلے پر واپس آ گیا ہے جہاں 1994 کا فیصلہ سنائے جانے سے پہلے تھا، اور ڈینیئل جولیویٹ کو ایک بار پھر قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔

جولیویٹ کے وکیل، جو پروجیکٹ اِنوسنس کیوبیک سے وابستہ ہیں، کا مؤقف ہے کہ مقدمے میں کئی سنگین سوالات موجود ہیں، جن میں مرکزی گواہ کی سچائی پر بھی شکوک شامل ہیں۔

استغاثہ کا مقدمہ بنیادی طور پر ایک مخبر کے بیان پر مبنی تھا، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ جولیویٹ نے منشیات اور چوری شدہ سامان کے تنازع پر چار افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

اگرچہ جولیویٹ ابتدائی طور پر اپیل میں سزا کالعدم کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم کینیڈا کی سپریم کورٹ نے سن 2000 میں سزا دوبارہ بحال کر دی تھی۔

کیوبیک کے سرکاری وکیل نے جون 2025 میں بھی کہا تھا کہ اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ جولیویٹ کے وکلا کو مقدمے کے دوران دفاع کے لیے تمام ضروری شواہد فراہم نہیں کیے گئے تھے۔ڈینیئل جولیویٹ سے توقع ہے کہ وہ نئے ٹرائل کے حکم کے بعد مونٹریال کی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کریں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں