اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں مجوزہ علیحدگی ریفرنڈم سے قبل اس کی تشہیری مہم پر ہونے والے اخراجات نے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ البرٹا کی اپوزیشن جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف عوام تک ریفرنڈم کا پیغام پہنچانے کے لیے صوبائی حکومت نے کم از کم 3 لاکھ 65 ہزار کینیڈین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ رقم براہِ راست ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی گئی، اس لیے حکومت کو اس حوالے سے مکمل جواب دہ ہونا چاہیے۔
این ڈی پی کے رہنما ناہید نینشی نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار معلومات تک رسائی کے قانون (Freedom of Information) کے تحت حاصل کی گئی دستاویزات سے سامنے آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے ٹیلی ویژن پر خصوصی خطاب اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشہیری ویڈیوز کی تیاری اور نشر کرنے کے لیے بھاری رقم خرچ کی۔
دستاویزات میں کیا ہے؟
ناہید نینشی کے مطابق حاصل ہونے والے سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ریفرنڈم سے متعلق عوامی آگاہی کے نام پر مختلف کمپنیوں اور اداروں سے معاہدے کیے۔ ان معاہدوں کے تحت ویڈیو پروڈکشن، ٹی وی نشریات، ڈیجیٹل تشہیر اور سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے لیے تقریباً 365 ہزار کینیڈین ڈالر خرچ کیے گئے۔
نینشی نے کہا کہ عوام کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اخراجات اس وقت مزید سوالات کو جنم دیتے ہیں جب عوام مہنگائی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل سے دوچار ہوں۔
نینشی کی تنقید
این ڈی پی رہنما نے وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ البرٹا کے شہریوں سے ایک ایسی سیاسی مہم کی قیمت وصول کی جا رہی ہے جسے وہ "سیاسی ڈرامہ” قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق حکومت عوامی وسائل استعمال کرکے ایک ایسے معاملے کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے جس کی عوامی سطح پر وسیع حمایت موجود نہیں۔ نینشی نے کہا کہ اگر حکومت واقعی عوامی مفاد میں کام کرنا چاہتی ہے تو اسے صحت، روزگار، تعلیم اور مہنگائی جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایک ایسی مہم پر جس سے صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت کا مؤقف
دوسری جانب وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ البرٹا کے مستقبل کے حوالے سے جاری بحث کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے عوام سے براہِ راست رائے لینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا علیحدگی معاملہ،پریمیئر ڈینیئل استمھ یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ختم
انہوں نے اعلان کیا ہے کہ 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹرز سے سوال کیا جائے گا کہ آیا البرٹا کو کینیڈا کا حصہ رہنا چاہیے یا پھر علیحدگی کے لیے آئندہ ایک دوسرا اور قانونی طور پر لازمی (Binding) ریفرنڈم کرانے کا عمل شروع کیا جائے۔
اسمتھ کا کہنا ہے کہ یہ ووٹنگ عوام کو اپنی رائے دینے کا جمہوری حق فراہم کرے گی اور اس معاملے پر جاری سیاسی بحث کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد دے گی۔
اپوزیشن کا مؤقف
اپوزیشن جماعت این ڈی پی کا کہنا ہے کہ دستیاب عوامی رجحانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ البرٹا کے شہریوں کی اکثریت کینیڈا سے علیحدگی کی حمایت نہیں کرتی بلکہ وفاق کا حصہ رہنے کے حق میں ہے۔
ناہید نینشی کے مطابق وزیر اعلیٰ نے یہ ریفرنڈم عوامی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ اپنی جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے اندر موجود علیحدگی پسند عناصر کو مطمئن کرنے اور ان پر سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ اس کی مالی قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔
سیاسی اہمیت
سیاسی مبصرین کے مطابق البرٹا کا یہ ریفرنڈم نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس مرحلے پر ووٹنگ کا مقصد صرف عوامی رائے معلوم کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس معاملے کو اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کے مطابق پیش کر رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
البرٹا میں مجوزہ علیحدگی ریفرنڈم پہلے ہی ملکی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، تاہم اب اس کی تشہیری مہم پر ہونے والے اخراجات بھی سیاسی تنازع کا حصہ بن گئے ہیں۔ اپوزیشن حکومت سے ان اخراجات کی مکمل تفصیلات سامنے لانے اور عوامی وسائل کے استعمال کا جواب دینے کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت کا اصرار ہے کہ ریفرنڈم عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 19 اکتوبر کی ووٹنگ تک اس معاملے پر بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی مہم جاری رکھیں گے، جبکہ عوام کی توجہ اس بات پر بھی رہے گی کہ آیا سرکاری وسائل کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کے تسلی بخش جواب دیے جاتے ہیں یا نہیں۔ ریفرنڈم کے نتائج نہ صرف البرٹا بلکہ پورے کینیڈا کی آئندہ سیاسی سمت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔