امتحانی پرچے لیک ہونے پر بھارت بھر میں احتجاج طول پکڑ گیا، مودی سے استفےکا مطالبہ

اردور ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے مسلسل واقعات نے مودی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی اور عوامی بحران کھڑا کر دیا ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی سے شروع ہونے والا نوجوانوں کا احتجاج اب ملک کے مختلف بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے جہاں ہزاروں طلبہ اور نوجوان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور بھارتی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج کا دائرہ اب ممبئی، پٹنہ، کیرالا اور گوا سمیت متعدد شہروں تک وسیع ہو گیا ہے جہاں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ، نوجوان تنظیمیں اور سماجی کارکن احتجاجی مظاہروں میں شریک ہیں۔

پرچے لیک ہونے پر نوجوانوں کا شدید ردعمل

مظاہرین کا کہنا ہے کہ بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ کئی نوجوانوں نے برسوں کی محنت کے باوجود امتحانات کے منسوخ ہونے اور دوبارہ انعقاد پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں

 الیکشن فہرست کی شفافیت پر احتجاج،بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کرلیاگیا

احتجاج کرنے والے طلبہ کا مؤقف ہے کہ اگر امتحانی نظام ہی محفوظ نہیں تو میرٹ اور انصاف کی بات بے معنی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔

وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
احتجاجی مظاہروں میں شریک نوجوان بھارتی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار پرچے لیک ہونے کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس سے تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ امتحانات کے انعقاد اور نگرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

حکومت پر سخت تنقید

نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف وزیراعظم کے نوٹس لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

تنظیم کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ "اوپر سے نیچے تک وزیر تعلیم سمیت نااہل لوگ بیٹھے ہیں جو صرف پیسہ بنا رہے ہیں۔” ان کے مطابق جب تک پورے نظام کا احتساب نہیں ہوگا، ایسے واقعات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کا الزام

احتجاجی تنظیموں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر احتجاج کو پرتشدد ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے حامی پتھراؤ کروا کر تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ طلبہ کے جائز مطالبات سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ تاہم حکومت یا بی جے پی کی جانب سے اس الزام پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شبانہ اعظمی کی احتجاج میں شرکت

احتجاجی تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی بھی مظاہرین کے درمیان پہنچ گئیں۔انہوں نے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے معروف شاعر فیض احمد فیض کی شہرۂ آفاق نظم "بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” سنائی، جس پر شرکاء نے بھرپور داد دی اور نعرے لگائے۔ ان کی شرکت کو احتجاجی تحریک کے لیے ایک اہم اخلاقی حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔

ملک گیر احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھنے لگا

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو مودی حکومت کو تعلیمی نظام میں اصلاحات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدامات پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل پر پہلے ہی پریشان ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے ان کی بے چینی اور غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت نے طلبہ کے خدشات دور کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ احتجاج آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور سیاسی سطح پر بھی مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں