امریکی جنگ بندی کی تجویز ایران نے مسترد کر دی، آبنائے ہرمز پر مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکا کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کر دیا ہے کہ محض عارضی جنگ بندی اس کے لیے قابل قبول نہیں، جب تک خطے کے بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، پر واضح اور قابلِ عمل پیش رفت نہ ہو۔

عراقی وزیراعظم تہران میں امریکی پیغام لے کر پہنچے

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں انہوں نے امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام ایرانی حکام تک پہنچایا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

عارضی جنگ بندی ایران کو قبول نہیں

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی موجودہ بحران کا حل نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی میں اضافہ ، خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھنے لگیں

ایرانی مؤقف کے مطابق مجوزہ تجویز میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول، علاقائی سلامتی اور دیگر بنیادی اسٹریٹجک معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں، اس لیے ایسی کسی بھی جنگ بندی سے مستقل امن قائم نہیں ہو سکے گا۔

عباس عراقچی کا امریکا پر سخت تنقید

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایرانی قیادت کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مختلف ممالک پہلے ہی ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس لیے اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا طرزِ عمل ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا رویہ ہی موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

ایران اپنے بنیادی مطالبات پر قائم

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جو اس کے قومی اور اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب بنیادی تنازعات کا منصفانہ اور مستقل حل نکالا جائے، نہ کہ محض عارضی جنگ بندی کے ذریعے کشیدگی کو وقتی طور پر کم کیا جائے۔

امریکا کا باضابطہ ردعمل سامنے نہ آ سکا

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ شائع ہونے تک امریکی حکومت کی جانب سے اس دعوے یا ایران کے مؤقف پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی انتظامیہ کی خاموشی کے باعث یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا واشنگٹن مستقبل میں نئی سفارتی تجویز پیش کرے گا یا موجودہ کوششوں کو ہی آگے بڑھایا جائے گا۔

ثالثی کی کوششیں بدستور جاری

سیاسی مبصرین کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ کا ایران کے خلاف اپنے حملوں میں پہلی بار ایک نئے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختلف ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی

ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، سمندری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں