اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا نے ملک بھر میں شراب کی بین الصوبائی تجارت آسان بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام صوبے تجارتی رکاوٹیں ختم کریں تاکہ مقامی کمپنیوں کو دوسرے صوبوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
البرٹا کے وزیر برائے سروسز ڈیل نیلی کا کہنا ہے کہ کئی کینیڈین صوبے اب بھی شراب کی فروخت کے معاملے میں "تحفظ پسند” پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ایک صوبے میں تیار ہونے والی شراب کو دوسرے صوبے کی مارکیٹ تک پہنچنے میں مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں لگ جاتے ہیں۔
البرٹا کا مؤقف
ڈیل نیلی نے کہا کہ دیگر صوبوں کو البرٹا کے ماڈل پر عمل کرنا چاہیے، جہاں غیر ضروری ضابطوں اور پیچیدہ قوانین کو کم کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اگر بیوروکریسی، اضافی ٹیکس اور غیر ضروری پابندیاں ختم کر دی جائیں تو کینیڈین کمپنیوں کو ملک بھر میں کاروبار بڑھانے کا موقع ملے گا، جس سے صارفین کو زیادہ انتخاب، بہتر معیار اور مناسب قیمتوں پر مصنوعات دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ البرٹا کی حکومت چاہتی ہے کہ تمام صوبے آزادانہ تجارت کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔
دو سال تک انتظار
ڈیل نیلی کے مطابق البرٹا کی شراب بنانے والی کئی کمپنیاں برٹش کولمبیا یا اونٹاریو کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے دو سال تک انتظار کرتی رہتی ہیں، اور بعض اوقات طویل عمل مکمل کرنے کے باوجود انہیں اجازت نہیں ملتی۔
اس کے برعکس، اگر کسی دوسرے صوبے کی کمپنی البرٹا میں اپنی مصنوعات فروخت کرنا چاہے تو اس کا رجسٹریشن عمل تقریباً تین ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ بعض صوبوں میں کاروباری رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ کے ٹیرف کا اثر
البرٹا حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر مجوزہ 50 فیصد ٹیرف بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد کینیڈین مصنوعات، جن میں شراب بھی شامل ہے، پر اضافی محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد البرٹا حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر بیرونی منڈیاں محدود ہو رہی ہیں تو کینیڈا کے اندر تجارت کو مزید آسان بنایا جانا چاہیے۔
ڈیل نیلی نے کہا کہ بعض البرٹا کی کمپنیوں کے لیے امریکا یا جاپان میں مصنوعات فروخت کرنا دوسرے کینیڈین صوبوں کے مقابلے میں آسان ہے، جو ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
مقامی مصنوعات کا غلبہ
اعداد و شمار کے مطابق مختلف صوبوں میں مقامی طور پر تیار کی گئی شراب مارکیٹ پر مختلف حد تک حاوی ہے۔اونٹاریو میں سرکاری شراب اسٹورز پر تقریباً 85 فیصد مصنوعات مقامی ہیں، جبکہ مینی ٹوبا میں یہ تناسب 60 فیصد کے قریب ہے۔البرٹا میں مقامی مصنوعات کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے، جسے حکومت آزاد اور مسابقتی مارکیٹ کی علامت قرار دے رہی ہے۔
صنعت کا مؤقف
البرٹا اسمال بریورز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلیئر برڈوسکو نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ برٹش کولمبیا اور اونٹاریو وہ مارکیٹیں ہیں جہاں داخل ہونا سب سے زیادہ مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ان کے مطابق کئی البرٹا کی کمپنیاں پیچیدہ قوانین اور طویل رجسٹریشن عمل کی وجہ سے ان صوبوں میں کاروبار کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتیں۔
انہوں نے بتایا کہ بعض صوبوں میں بیرونی کمپنیوں کو مقامی ایجنٹ مقرر کرنا لازمی ہوتا ہے، جبکہ کچھ مقامات پر نئی مصنوعات صرف اسی صورت قبول کی جاتی ہیں جب متعلقہ حکام سمجھیں کہ مارکیٹ میں اس کی ضرورت موجود ہے۔
صوبوں کا ردعمل
اونٹاریو حکومت نے کہا ہے کہ حالیہ تبدیلیوں کے بعد نئی مصنوعات کے لیے رجسٹریشن کے مواقع بڑھائے گئے ہیں اور حکومت بین الصوبائی تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کی حامی ہے۔
دوسری جانب برٹش کولمبیا کی وزارت زراعت اور خوراک نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں جس کے تحت دوسرے صوبوں کے ریٹیلرز کو براہ راست فروخت کی اجازت دی جائے۔
نئی پیش رفت
یہ معاملہ اس ہفتے کینیڈا کے وزرائے اعلیٰ کے سالانہ اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جہاں نو صوبوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
اس معاہدے کے تحت ایک صوبے کا شہری دوسرے صوبے کے کسی شراب ساز ادارے سے براہ راست مصنوعات خرید کر اپنے گھر منگوا سکے گا۔
اس سے قبل ایسی خریداری یا تو مکمل طور پر ممنوع تھی یا پھر صرف مخصوص صوبائی معاہدوں کے تحت محدود پیمانے پر ممکن تھی۔
آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق اگر کینیڈا کے تمام صوبے شراب کی بین الصوبائی تجارت پر موجود رکاوٹیں ختم کر دیتے ہیں تو اس سے مقامی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے، کاروباری مواقع میں اضافہ ہوگا اور صارفین کو زیادہ متنوع اور مسابقتی قیمتوں پر مصنوعات دستیاب ہوں گی۔
البتہ بعض صوبے اب بھی اپنے مقامی کاروبار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث ملک بھر میں مکمل آزاد تجارتی نظام کے قیام میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔