وفاقی حکومت نے توسیع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ٹورنٹو کا بڑا ائیرپورٹ منصوبہ رک گیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت نے بلی بشپ ٹورنٹو سٹی ایئرپورٹ کی توسیع کے منصوبے کو آگے بڑھانے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد اونٹاریو حکومت کا بڑا منصوبہ مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کِنن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وفاقی حکومت اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کی تجویز کردہ توسیعی منصوبے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔اس منصوبے کے تحت ایئرپورٹ پر بڑے اور زیادہ شور کرنے والے طیاروں کی آمد و رفت ممکن بنائی جانی تھی۔

شور اور ماحولیات پر خدشات

وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت مقامی آبادی کے مفادات اور شہری سہولیات کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاق ایسے کسی منصوبے کو آگے نہیں بڑھائے گا جس سے لٹل ناروے پارک یا ہینلنز پوائنٹ بیچ جیسے عوامی مقامات متاثر ہوں، شور میں اضافہ ہو، ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوں یا ٹورنٹو میں ضروری رہائشی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو۔

عوامی رائے

وفاقی حکومت کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرپورٹ توسیع کے حوالے سے عوامی مشاورت کا عمل مکمل ہوا۔دو ہفتوں تک جاری رہنے والی مشاورت میں شہریوں کی جانب سے 87 ہزار سے زائد آرا موصول ہوئیں۔

اگرچہ توسیع کا حتمی منصوبہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا، تاہم ٹورنٹو پورٹ اتھارٹی کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر لاگت آ سکتی تھی، جبکہ تعمیراتی کام مکمل ہونے میں تقریباً 25 سال لگنے کا اندازہ تھا۔

ڈگ فورڈ کا منصوبہ

اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کی حکومت نے جون میں بل 110 منظور کیا تھا، جس کے ذریعے صوبائی حکومت شہر کی ملکیتی ایئرپورٹ زمین پر خصوصی اختیارات حاصل کرنا چاہتی تھی۔

حکومت کا مقصد میونسپل قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے علاقے کو "خصوصی اقتصادی زون” قرار دے کر ایئرپورٹ توسیع کا راستہ ہموار کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :ایئر کینیڈا نے مونٹریال ڈاؤن ٹاؤن سے ٹروڈو ایئرپورٹ تک نئی شٹل سروس شروع کر دی

تاہم ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے اس اقدام کو "زمین پر قبضے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے غیر جمہوری مداخلت قرار دیا تھا۔

مخالفین کے خدشات

ماحولیاتی تنظیموں اور 2SLGBTQ+ حقوق کے گروپس سمیت کئی حلقوں نے ایئرپورٹ توسیع کی مخالفت کی تھی۔

مخالفین کا کہنا تھا کہ بڑے طیاروں کی آمد و رفت سے شور، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ توسیع کے نتیجے میں ٹورنٹو آئی لینڈ کے قدرتی ماحول، جنگلی حیات اور وہاں آنے والے شہریوں کے تجربے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

میئر کا ردعمل

ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے وفاقی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم مارک کارنی اور وزیرِ ٹرانسپورٹ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹورنٹو کے شہریوں کی آواز سنی ہے۔

چاؤ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ شہریوں کی مسلسل کوششوں اور آواز اٹھانے سے فرق پڑا، اور اب صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ شہر کی زمین واپس کرے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں واٹر فرنٹ کو مزید بہتر بنانے، نئے پارکس، رہائش اور عوامی سہولیات کے لیے کام جاری رکھا جائے گا۔

اونٹاریو کا اصرار

وفاقی حکومت کی مخالفت کے باوجود اونٹاریو حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ توسیع کے منصوبے پر کام جاری رکھے گی۔

اونٹاریو کے وزیرِ ٹرانسپورٹ پربمیت سنگھ سرکاریا نے کہا کہ اس منصوبے کے فوائد واضح ہیں۔

ان کے مطابق توسیعی منصوبہ کینیڈا کی معیشت میں سالانہ 8.5 ارب ڈالر تک کا اضافہ کر سکتا ہے، ہزاروں ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے اور اونٹاریو، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر حصوں سے رابطے بہتر بنا سکتا ہے۔

مستقبل کا تنازع

اونٹاریو حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسا منصوبہ چاہتی ہے جس میں عوامی مقامات کا تحفظ، شور میں کمی اور ماحولیاتی اثرات کا خیال رکھا جائے۔

تاہم وفاقی حکومت کے فیصلے کے بعد بلی بشپ ایئرپورٹ کی توسیع کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اختلاف کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایک طرف معاشی فوائد کا مؤقف پیش کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب شہری ماحول اور عوامی مقامات کے تحفظ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں