اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں گاڑیوں کے لیے استعمال ہونے والی گیس (Gasoline) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ شروع ہو گیا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی بتائی جا رہی ہے۔
پمپ قیمتوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ GasBuddy کے مطابق کینیڈا میں گیس کی قومی اوسط قیمت اب 1.80 کینیڈین ڈالر فی لٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک روز میں گیس کی اوسط قیمت میں تقریباً 2 سینٹ فی لٹر اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قیمتیں تقریباً 8 سینٹ فی لٹر بڑھ چکی ہیں۔
مزید اضافے کا امکان
پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل اثر ابھی کینیڈا کے گیس پمپس تک نہیں پہنچا۔
ان کا کہنا ہے کہ آنے والے ایک سے دو ہفتوں کے دوران کینیڈا میں گیس کی قیمتوں میں مزید 5 سے 10 سینٹ فی لٹر اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
خام تیل کیوں مہنگا ہوا؟
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کا براہ راست اثر کینیڈا میں گیس کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں بڑھتی ہوئی تیل و گیس کی قیمتیں، عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی ستمبر کے لیے قیمت 92 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو ایک روز میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہے۔
اسی طرح سمندری راستوں سے تجارت ہونے والے خام تیل کے بینچ مارک کی قیمت بھی 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ رہی ہے۔
عالمی کشیدگی کا اثر
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ دنیا بھر میں جاری سیاسی کشیدگی ہے۔یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانے کے واقعات نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے میں رکاوٹوں نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
ڈیزل بھی مہنگا ہونے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق خام تیل سے تیار ہونے والے ایک اور اہم ایندھن ڈیزل کی قیمتیں بھی آنے والے ہفتوں میں ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔
پیٹرک ڈی ہان کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے کاروباری شعبہ زیادہ متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹرک، زرعی مشینری، ریلوے اور بھاری آلات بڑی مقدار میں ڈیزل استعمال کرتے ہیں۔
عوام اور کاروبار متاثر
گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں۔ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے سامان کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی کئی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
خاص طور پر کسان، ٹرانسپورٹرز اور وہ کاروبار جو بھاری مشینری استعمال کرتے ہیں، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔
مستقبل کی صورتحال
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں گیس کی قیمتوں کا انحصار عالمی سیاسی صورتحال، تیل کی سپلائی اور بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی پر ہوگا۔
اگر عالمی تنازعات میں شدت برقرار رہی تو کینیڈا سمیت کئی ممالک میں ایندھن مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے، جبکہ عالمی حالات بہتر ہونے کی صورت میں قیمتوں میں استحکام یا کمی بھی آ سکتی ہے۔