اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں معمولی بہتری ہوئی ہے، تاہم گرین پاسپورٹ اب بھی دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔تازہ عالمی پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستان کا پاسپورٹ دو درجے بہتری کے بعد 103 ویں سے 101 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
اس بہتری کے باوجود پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو عالمی سفر کے لیے اب بھی محدود سہولتیں حاصل ہیں اور یہ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں شامل ہے۔
کتنے ممالک میں سفر ممکن؟
درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری اب 29 ممالک یا خطوں میں بغیر پیشگی ویزا حاصل کیے سفر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :نئی پاسپورٹ رینکنگ جاری، سنگاپور بدستور پہلے نمبر پر، پاکستانی پاسپورٹ 100ویں پوزیشن پر برقرار
تاہم زیادہ تر ممالک کے لیے پاکستانی شہریوں کو اب بھی پہلے سے ویزا حاصل کرنے کے طویل اور مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
پاسپورٹ کی طاقت کا اندازہ عام طور پر اس بنیاد پر لگایا جاتا ہے کہ کسی ملک کے شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا، ویزا آن ارائیول یا آسان سفری اجازت کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس
یہ درجہ بندی عالمی شہریت اور رہائش سے متعلق مشاورتی ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔رپورٹ میں دنیا کے 199 پاسپورٹس اور 227 سفری مقامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ادارے کے مطابق مختلف ممالک کی ویزا پالیسیاں، سفری معاہدے اور بعض عالمی حالات بھی پاسپورٹ کی درجہ بندی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
دنیا کے طاقتور پاسپورٹس
رپورٹ کے مطابق دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ اب بھی سنگاپور کا ہے، جو درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر موجود ہے۔سنگاپور کے شہری دنیا کے بڑی تعداد میں ممالک میں بغیر پیشگی ویزا کے سفر کر سکتے ہیں۔دوسری جانب خطے میں بھارت کا پاسپورٹ پاکستان سے کافی بہتر پوزیشن پر موجود ہے اور وہ 81 ویں نمبر پر ہے۔
افغانستان سب سے آخر میں
عالمی درجہ بندی میں افغانستان کا پاسپورٹ سب سے نچلے درجے پر موجود ہے۔پاکستانی پاسپورٹ اگرچہ عراق، شام اور افغانستان کے مقابلے میں بہتر پوزیشن پر ہے، تاہم عالمی سطح پر اسے اب بھی کمزور پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔
پاسپورٹ کی اہمیت کیوں؟
کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی مضبوطی صرف سفری سہولت نہیں بلکہ اس ملک کی عالمی ساکھ، سفارتی تعلقات، معاشی صورتحال اور دوسرے ممالک کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
مضبوط پاسپورٹ رکھنے والے شہری زیادہ آسانی سے کاروباری، تعلیمی اور سیاحتی مقاصد کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کر سکتے ہیں۔
کمزور پاسپورٹ رکھنے والے ممالک کے شہریوں کو اکثر ویزا درخواستوں، اضافی دستاویزات اور طویل انتظار جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے لیے چیلنج
ماہرین کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے، تاہم اسے مزید بہتر بنانے کے لیے سفارتی تعلقات میں بہتری، معاشی استحکام اور عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ ضروری ہے۔
حالیہ بہتری کے باوجود پاکستان اب بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں شہریوں کو بیرون ملک سفر کے لیے سب سے زیادہ ویزا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی موجودہ پوزیشن خطے کے کئی ممالک سے پیچھے ہے، جس کے باعث عالمی سفر کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔