اردو ورلڈ کینیدٓا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلاتی آگ نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
شدید آگ کے باوجود کلنٹن نامی قصبے کا بیشتر حصہ محفوظ رہا۔ مقامی حکام کے مطابق آگ سے چند عمارتیں ضرور تباہ ہوئی ہیں جبکہ علاقے میں خطرہ بدستور برقرار ہے اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
کلنٹن کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے اہلکار برائن ڈوڈرج نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قصبے کا "بیشتر رہائشی علاقہ” آگ سے محفوظ رہا تاہم پیر لیک جنگل کی آگ جمعہ کی شب قصبے کے مضافات تک پہنچ گئی تھی جس کے باعث بعض عمارتیں جل کر تباہ ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکام نقصان کا مکمل جائزہ لینے کے بعد متاثرہ جائیدادوں کے مالکان کو آگاہ کریں گے جبکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
انخلا کے احکامات، مگر بعض مکین گھروں میں ڈٹے رہے
جنگلاتی آگ کے پیش نظر کلنٹن کے تمام رہائشیوں کو فوری طور پر علاقے سے نکل جانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
برائن ڈوڈرج کے مطابق وہ اور چند دیگر سرکاری اہلکار ابتدا میں انخلا کی کارروائی کی نگرانی کے لیے قصبے میں موجود رہے لیکن شام تقریباً پانچ بجے آگ کے تیزی سے قریب آنے پر انہیں بھی علاقہ چھوڑنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں ؛
کینیڈا میں نئے جنگلات اُگانے کی کوششیں ،73 لاکھ ہیکٹر رقبہ جلنے کے بعد شجرکاری شروع
انہوں نے بتایا کہ بعض رہائشیوں نے انخلا کے احکامات کے باوجود اپنے گھروں میں رہنے کا فیصلہ کیا حالانکہ انہیں واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ وہ انتہائی خطرناک علاقے میں موجود ہیں اور اپنی جان کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
فائر فائٹرز کی پوری رات جدوجہد
حکام کے مطابق فائر فائٹرز نے پوری رات پیر لیک کی آگ کو قصبے سے دور رکھنے کے لیے اسپرنکلر سسٹم نصب کیے اور مختلف مقامات پر آگ کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کی۔
یہ آگ بگ بار وائلڈ فائر کمپلیکس کا حصہ ہے جس میں تین بڑے جنگلاتی آتش زدگی کے واقعات شامل ہیں۔ برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کا کہنا ہے کہ تینوں آگیں مزید پھیلنے کا خدشہ رکھتی ہیں اور ہفتے کے روز صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد نئی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
"قصبہ دھوئیں میں چھپ گیا تھا”
برائن ڈوڈرج نے بتایا کہ جب آگ قصبے کے قریب پہنچی تو پورا علاقہ گھنے دھوئیں میں ڈھک گیا تھا جس کے باعث چند قدم دور تک دیکھنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صرف پہاڑی کے پیچھے سے اٹھتی نارنجی روشنی ہی اس بات کا اشارہ دے رہی تھی کہ آگ کتنی قریب پہنچ چکی ہے۔
35 سال پرانا کاروبار راکھ بن گیا
کلنٹن کے رہائشی اسٹیون لارابی نے بتایا کہ جنگلاتی آگ نے ان کا گھر، ٹو ٹرک کا کاروبار اور تمام گاڑیاں تباہ کر دیں۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 35 برس سے یہ کاروبار چلا رہے تھے مگر چند ہی لمحوں میں سب کچھ جل کر خاک ہو گیا۔
ان کے مطابق آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور وہ بمشکل اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
اپنا گھر بچانے کے لیے خاتون نے علاقہ نہ چھوڑا
کلنٹن کی رہائشی اینیٹ روہلگ نے انخلا کے احکامات کے باوجود اپنا گھر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا، "یہ میرا گھر ہے، میں یہیں رہنا چاہتی ہوں اور ہر ممکن کوشش کروں گی کہ اسے محفوظ رکھ سکوں۔”
مزید پڑھیں :
کینیڈا،آئرش ٹاؤن کے قریب جنگل میں آتشزدگی ، ہنگامی امداد طلب
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح تیز ہواؤں کے باعث آگ کے شعلے کئی گھروں کی بلندی تک پہنچ گئے، تاہم فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ کو پیچھے دھکیل دیا۔
120 سے زائد جنگلاتی آگ کے واقعات
حکام کے مطابق برٹش کولمبیا بھر میں اس وقت 120 سے زائد جنگلاتی آگ کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں متعدد آگ بے قابو ہے ۔ امدادی ادارے مختلف علاقوں میں آگ پر قابو پانے، رہائشیوں کے انخلا اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے شب و روز مصروف ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں خطرہ بدستور برقرار ہے۔