اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پرائیڈ پریڈ کی تقریبات کے دوران ایک وین ہجوم پر چڑھ دوڑی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس نے واقعے کے مرکزی مشتبہ شخص کی شناخت کر لی ہے اور بتایا ہے کہ اس کے روابط برلن میں موجود اسلام پسند شدت پسند حلقوں سے رہے ہیں، تاہم اسے تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
برلن پولیس کے ترجمان فلوریان ناتھ نے بتایا کہ مشتبہ شخص پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہے اور اس کی تلاش انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ تاہم انہوں نے تحقیقات کے پیش نظر مشتبہ شخص کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں :
وینکوور فیسٹیول ، ڈرائیور نے ہجوم پر گاڑ ی چڑھادی ، متعدد افرا د ہلاک ،کئی زخمی
پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی جبکہ جائے وقوعہ پر بڑی تعداد میں ایمبولینسوں، فائر فائٹرز اور امدادی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
وین ہجوم میں گھس گئی
پولیس کے مطابق سفید رنگ کی ایک وین پرائیڈ مارچ کے راستے سے متصل ٹیئرگارٹن پارک میں داخل ہوئی جہاں متعدد افراد کو کچلنے کے بعد ایک درخت سے ٹکرا کر رک گئی۔
حکام نے بتایا کہ واقعے کے وقت شہر بھر میں پرائیڈ پریڈ اور اس سے متعلق دیگر تقریبات کی سیکیورٹی کے لیے 2,200 سے زائد پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ جائے وقوعہ پر بھی بڑی تعداد میں پولیس نفری پہنچ گئی۔
چاقو کے وار کی اطلاعات بھی زیرِ تفتیش
پولیس نے رات بھر گواہوں کے بیانات قلم بند کیے اور ان اطلاعات کی بھی تحقیقات شروع کر دیں کہ کچھ متاثرین کے جسموں پر چاقو کے زخم بھی موجود تھے تاہم حکام نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی اور تحقیقات جاری ہیں۔
برلن کے میئر کا سخت ردعمل
برلن کے میئر کائی ویگنر نے واقعے پر شدید افسوس اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک پرامن اور رنگا رنگ پرائیڈ پریڈ کے بعد برداشت اور امن کے پیغام پر مبنی اجتماع کو انتہائی سفاکانہ انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ برلن کے آزاد، کھلے اور کثیرالثقافتی معاشرے پر حملہ ہے جبکہ ان کی ہمدردیاں متاثرین ان کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کے لیے شب و روز کام کریں گے۔
شہریوں سے تصاویر اور ویڈیوز طلب
حکام نے واقعے کے عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس جائے وقوعہ کی تصاویر یا ویڈیوز موجود ہیں تو وہ فوری طور پر پولیس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔
انتظامیہ نے لاپتا افراد کے اہل خانہ اور دوستوں کی مدد کے لیے ایک ہنگامی ہیلپ لائن بھی قائم کر دی ہے۔
تقریبات منسوخ، شہر میں سوگ کی فضا
ہزاروں افراد برلن کی سالانہ پرائیڈ پریڈ، جسے جرمنی میں "کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے” کہا جاتا ہے، میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ یورپ کی سب سے بڑی پرائیڈ تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
کینیڈا میں گاڑی چوری کی وارداتیں کیسے کم ہوئیں، پھر بھی 80 فیصد شہری غیر محفوظ کیوں؟
واقعے کے بعد برانڈن برگ گیٹ پر جاری مرکزی تقریب اور موسیقی کا پروگرام فوری طور پر روک دیا گیا جبکہ شرکا کو ہدایت کی گئی کہ وہ محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں اور ٹیئرگارٹن پارک کے راستے سے گریز کریں۔
"برادری کے لیے سیاہ دن”
تقریب میں شریک جولین میتھگ نے بتایا کہ وہ بعد ازاں ایک تقریب میں جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ انہیں دوستوں سے اطلاع ملی کہ جائے وقوعہ پر بڑی تعداد میں فائر بریگیڈ، ایمبولینسیں اور امدادی گاڑیاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ ٹیئرگارٹن پہنچے تو منظر دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔ان کے بقول، "یہ ہماری برادری کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔”